RSS

جھوٹ

03 Sep

س: کسی انسان کے جھوٹ بولنے کی انتہا ہے؟

ج:شاید جھوٹ کی کوئی انتہا نہیں۔ جھوٹ ایک دلدل ہے۔ ایک قدم ڈالو تو دوسرا خود بخود دھنستا چلا جاتا ہے۔ ناچاہتے ہوئے بھی دھنستا جاتا ہے۔ یہاں تک کے انسان اس دلدل میں غرق ہوجائے۔ اور اگروقتی طور پر غرق نا بھی ہو، کسی عارضی ٹہنی کا سہارا لے کے قدم تھوڑی دیر کے لیے جما بھی لے تو بھی انسان کی جان مسلسل اٹکی رہتی ہے۔ اور پھر آخر کار وہ ٹہنی بھی ٹوٹ ہی جاتی ہے اور پھر انسان اتنی تیزی سے غرق ہو جاتا ہے جیسے نگل لیا گیا ہو۔۔۔

س: جی۔ مگر کچھ لو گ مسلسل جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ جھوٹ اگر پکڑا نہ جائے تو اپنے آپ کو سمارٹ سمجھتے ہیں اور پھر ہم جیسے بے بس لوگ بس صر ف یہی کہہ پاتے ہیں کہ ’’اللہ پوچھے۔۔۔‘‘ ایسے دھوکا کھا کے بہت برا بھی لگتا ہے۔ اپنے آپ پر ہنسی بھی آتی ہے اور رونا بھی۔۔۔

ج:رونا تو شاید دوسرے کی حالت زار پر آنا چاہیئے۔ وہ گھاٹے میں ہے۔ اللہ کی ناراضی موہ لئے ہوئے ہے۔ اللہ نرمی والا معاملہ کرے اس کے ساتھ۔ آپ کا ایمان تو مزید مضبوط ہوناچاہئیے کہ اللہ نے آپ کواس باریک بات کی سمجھ عطا فرمائی۔

 
1 Comment

Posted by on September 3, 2013 in Urdu Corner, Viewpoint

 

One response to “جھوٹ

  1. ALittleSomething

    September 3, 2013 at 11:14 pm

    Nice! Very true!

     

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: