RSS

زکوٰة قرآن میں

18 Mar

 

شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

زکوٰة قرآن میں

 

اورقائم کرو تم لوگ نماز کو (یعنی مسلمان ہو کر) اور دو زکوٰة کو اور عاجزی کرو عاجزی کرنیوالوں کے ساتھ ۔ (سورة البَقَرَة ۴۳)

(2-Surah Al-Baqara : Ayah 43) 

 

 

اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب لیا ہم نے (توریت میں) قول و قرار بنی اسرائیل سے کہ عبادت مت کرنا (کسی کی) بجز الله تعالیٰ کے اور ماں باپ کی اچھی طرح خدمت گزاری کرنا اور اہل قرابت کی بھی اور بے باپ کے بچوں کی بھی اور غریب محتاجوں کی بھی اور عام لوگوں سے بات اچھی طرح (خوش خلقی سے) کہنا اور پابندی رکھنا نماز کی اور ادا کرتے رہنا ز کوة پھر تم (قول و قرار کر کے) اس سے پھر گئے بجز معدودے چند کے اور تمھاری تو معمولی عادت ہے اقرار کر کےہٹ جانا․ (سورة البَقَرَة ۸۳)

(2-Surah Al-Baqara : Ayah 83)

 

 

اور نماز قائم کرو اور زکوةٰ دو اور جو کچھ نیکی سے اپنےواسطے آگے بھیجو گے اسے الله کے ہاں پاؤ گے بے شک الله جو کچھ تم کرتے ہو سب دیکھتا ہے (سورة البَقَرَة ۱۱۰)

(2-Surah Al-Baqara : Ayah 110)

 

 

کچھ سارا کمال اسی میں نہیں (آگیا) کہ تم اپنا منہ مشرق کو کرلو یا مغرب کو لیکن (اصلی) کمال تو یہ ہے کہ کوئی شخص الله تعالیٰ پر یقین رکھے اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (سب) کتب (سماویہ) پر اور پیغمبروں پراور مال دیتا ہو اس (الله) کی محبت میں رشتہ داروں کو اور یتیموں کواور محتاجوں کو اور (بےخرچ) مسافروں کو اور سوال کرنے والوں کو اور گردن چھڑانے میں اور نماز کی پابندی رکھتا ہو اور زکوٰةبھی ادا کرتا ہو اور جو اشخاص (ان عقائد و اعمال کے ساتھ یہ اخلاق بھی رکھتے ہوں کہ) اپنے عہدوں کو پوراکرنے والے ہوں جب عہد کرلیں اور وہ لوگ مستقل رہنے والے ہوں تنگدستی اور بیماری میں اور قتال میں یہ لوگ ہیں جوسچّے (کمال کے ساتھ موصوف)ہیں اور یہی لوگ ہیں جو (سچّے) متقی (کہے جاسکتے) ہیں۔ (سورة البَقَرَة ۱۷۷)

(2-Surah Al-Baqara : Ayah 177)

 

 

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے اور (بالخصوص) نماز کی پابندی کی اور زکوٰة دی ان کے لیے ان کا ثواب ہوگا ان کے پروردگار کے نزدیک اور (آخرت میں) ان پر کوئی خطرہ نہیں ہوگا اور نہ وہ مغموم ہونگے۔ (سورة البَقَرَة ۲۷۷)

(2-Surah Al-Baqara : Ayah 277)

 

 

(اور وہ لوگ) صبر کرنے والے ہیں اور راست باز ہیں اور (الله کے سامنے) فروتنی کرنے والے ہیں اور (مال) خرچ کرنے والے ہیں اور اخیر شب میں (اُٹھ اُٹھ کر) گناہوں کی معافی چاہنے والے ہیں۔ (سورة آل عِمرَان ۱۷)

(3-Surah Al-E-Imran : Ayah 17)

 

آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ (جس کو یہ لائے ہیں) لیجیئے جسکے (لینے کے) ذریعہ سے آپ ان کو (گناہ کے آثار سے) پاک کردینگے اور ان کے لیے دعا کیجیئے بلاشبہ آپ کی دعا ان کے لیے موجب اطمینان (قلب) ہے اور الله تعالیٰ خوب سنتے ہیں خوب جانتے ہیں۔ (سورة التّوبَة ۱۰۳)

(9-Surah Al-Tawba : Ayah 103)

ٰبے شک ایمان والے کامیاب ہو گئے (۱) جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں (۲) اور جو بے ہودہ باتو ں سے منہ موڑنے والے ہیں (۳) اور جو زکواة دینے والے ہیں (۴) (سورة المؤمنون ۱- ۴)

(23-Surah Al-Mumenoon : Ayah 1-4)

 

 

جن کو الله کی یاد سے اور بالخصوص نماز پڑھنے سے اور زکوٰة دینے سے نہ خرید غفلت میں ڈالنے پاتی ہے اور نہ فروخت(اور) ایسے دن کی دارو گیر سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں الٹ جاویں گی ۔ (سُوۡرَةُ النُّور۳۷)

(24-Surah Al Noor : Ayah 37)

 

 

جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتےہیں اور وہ لوگ آخرت کا پورا یقین رکھتے ہیں۔ (۴) یہ لوگ اپنے رب کے سیدھے راستے پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ (سورة لقمَان ۴۵)

(31- Surah Luqman : Ayah 4-5)

 

(خصوصی تعاون: سعدیہ اختر) 

 

 
Leave a comment

Posted by on March 18, 2011 in Quran-Urdu category

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: