RSS

رمضان قرآن میں ….

16 Aug

اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہےجس طرح تم سے پہلے (امتوں کے) لوگوں پر فرض کیا گیا تھااس توقع پر کہ تم (روزہ کی بدولت رفتہ رفتہ) متقی بن جاوٴ۔ (۱۸۳) تھوڑے دنوں روزہ رکھ لیا کروپھر (اس میں بھی اتنی آسانی کہ) جوشخص تم میں (ایسا) بیمار ہو (جس میں روزہ رکھنا مشکل یا مضر ہو) یا (شرعی) سفر میں ہو تو دوسرے ایام کا شمار (کرکے ان میں روزہ) رکھنا (اس پر واجب) ہے اور (دوسری آسانی جو بعد میں منسوخ ہوگئی یہ ہے کہ) جولوگ روزے کی طاقت رکھتے ہوں انکے ذمہ فدیہ ہے کہ وہ ایک غریب کا کھانا (کھلادینا یادیدینا ہے) اور جوشخص خوشی سے (زیادہ) خیر (خیرات) کرے (کہ زیادہ فدیہ دے) تو یہ اُس شخص کے لیے اَور بھی بہتر ہے اور تمھارا روزہ رکھنا (اس حال میں) زیادہ بہتر ہے (اگر تم روزے کی فضیلت کی)خبر رکھتے ہو۔ (۱۸۴) (وہ تھوڈے دن) ماہِ رمضان ہے جس مین قرآن مجید بھیجا گیا ہے (جس کا ایک وصف یہ ہے) کہ لوگوں کے لیے (ذریعٴہ) ہدایت ہےاور (دوسرا وصف) واضح الدلالتہ ہےمنجملہ ان (کتب) کے جو (زریعہ) ہدایت (بھی) ہیں اور (حق و باطل میں) فیصلہ کرنےوالی (بھی) ہیں سو جو شخص اس ماہ میں موجود ہو اس کو ضرور اس میں روزہ رکھنا چاہیےسو جو شخص بیمار ہویا سفر میں تو دوسرے ایام کا (اتنا ہی) شمار (کرکے ان میں روزہ) رکھنا (اس پر واجب) ہے الله تعالیٰ کو تمھارے ساتھ (احکام میں) آسانی کرنا منظور ہےاور تمھارے ساتھ (احکام و قوانین مقرر کرنے میں) دشواری منظورنہیں اور تاکہ تم لوگ (ایام ادا یا قضا کی) شمار کی تکمیل کرلیا کرو (کہ ثواب میں کمی نہ رہے) اور تاکہ تم لوگ الله تعالیٰ کی بزرگی (وثنا)بیان کیا کرواس پر کہ تم کو (ایک ایسا) طریقہ بتلادیا (جس سے تم برکات و ثمراتِ صیام رمضان سے محروم نہ رہو گے )اور (عذر سے خاص رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت اس لیے دیدی) تاکہ تم لوگ (اس نعمتِ آسمانی پر الله کا) شکر ادا کیا کرو۔ (۱۸۵) ٌاور جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق دریافت کریں تو (آپ میری طرف سے فرمادیجیے) میں قریب ہی ہوں (اور باستثنا نا مناسب درخواست کے) منظور کرلیتا ہوں(ہر)عرضی درخواست کرنے والے کی جبکہ وہ میرے حضور میں درخواست دے سو ان کو چاہیے کہ میرے احکام کو قبول کیا کریں اور مجھ پر یقین رکھیں امید ہے کہ وہ لوگ رشد (وفلاح) حاصل کرسکیں گے۔ (۱۸۶) تم لوگوں کے واسطے روزہ کی شب میں اپنی بیبیوں سے مشغول ہونا حلال کردیا گیا کیونکہ وہ تمھارے (بجائے) اوڑھنے بچھونے (کے) ہیں اور تم ان کے (بجائے) اوڑھنے بچھونے (کے) ہو۔ خدا تعالیٰ کو اس کی خبر تھی کہ تم خیانت (کرکے گناہ میں اپنے کو مبتلا) کررہے تھے (مگر)خیر الله تعالیٰ نے تم پر عنایت فرمائی تم سے گناہ کو دھودیا۔ سو اب ان سے ملو ملاوٴ۔ اور جو (قانون اجازت) تمھارے لیے تجویز کردیا ہے (بلاتکلف) اس کا سامان کرو اور کھاوٴ اور پیو (بھی) اس وقت تک کہ تم کو سفید خط (کہ عبارت ہے نور) صبح (صادق) کا متمیز ہوجاوے سیاہ خط سے پھر (صبحِ صادق سے) رات تک روزہ کو پورا کیا کرو ۔ اور ان بیبیوں (کے بدن) سے اپنا بدن بھی مت ملنِے دو جس زمانہ میں کہ تم لوگ اعتکاف والے ہو مسجدوں میں یہ خداوندی ضابطے ہیں سو ان (سے نکلنے) کے نزدیک بھی مت ہونا اسی طرح الله تعالیٰ اپنے (اور) احکام (بھی) لوگوں (کی اصلاح) کے واسطے بیان فرمایا کرتے ہیں اس امید پر کہ وہ لوگ (احکام پر مطلع ہوکر خلاف کرنے سے) پرہیز رکھیں۔ (۱۸۷)

[Chapter 1: Al-Baqara 183-187]

 
Leave a comment

Posted by on August 16, 2010 in Quran-Urdu category

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: