RSS

روزے

24 Jul

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1773       حدیث مرفوع         مکررات 28

قتیبہ بن سعید، اسماعیل بن جعفر، ابوسہل اپنے والد سے وہ طلحہ بن عبیداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے بال الجھے ہوئے تھے۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بتائیے کہ ہم پر اللہ نے کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ نے فرمایا پانچ نمازیں لیکن اگر تو نفل پڑھے تو اور بات ہے، پھر اس نے عرض کیا کہ ہمیں بتائیے کہ کتنے روزے اللہ نے ہم پر فرض کئے ہیں؟ آپ نے فرمایا ماہ رمضان کے روزے، لیکن اگر تو نفل رکھے تو الگ بات ہے۔ پھر اس نے عرض کیا کہ ہمیں بتائیے کہ اللہ نے ہم پر کتنی زکوۃ فرض کی ہے؟ راوی کا بیان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شرائع اسلام بتا دئیے اس شخص نے کہا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو باعزت بنایا، میں اس سے نہ تو کچھ کم کروں گا نہ تو کچھ زیادہ کروں گا جو اللہ تعالی نے ہم پر فرض کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص کامیاب ہوگیا اگر اپنے قول میں سچا ہے یا یہ فرمایا کہ وہ شخص جنت میں جائے گا اگر اپنے قول میں سچا ہے۔

—–

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1774       حدیث متواتر حدیث مرفوع         مکررات 11

مسدد، اسماعیل، ایوب، نافع، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشورہ کا روزہ رکھا اور اسکے روزے کا حکم دیا۔ جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہوئے، تو چھوڑ دیا گیا اور عبداللہ اس دن روزہ نہ رکھنے کی عادت ہوتی اگر اس دن پڑجاتا تو رکھ لیتے۔

—–

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1775       حدیث متواتر حدیث مرفوع         مکررات 15
قتیبہ بن سعید، لیث، یزید بن ابی حبیب، عراق بن مالک، عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ قریش زمانہ جاہلیت میں عاشورہ کے روزے رکھتے تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے روزوں کا حکم دیا یہاں تک کہ جب رمضان کے روزے فرض کئے گئے، تو رسول اللہ نے فرمایا کہ جو چاہے روزے رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔

—–

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1776       حدیث مرفوع         مکررات 26
عبداللہ بن مسلمہ، مالک، ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے، اس لیے نہ تو بری بات کرے اور نہ جہالت کی بات کرے اگر کوئی شخص اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے میں روزہ دار ہوں، دوبار کہہ دے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے وہ کھانا پینا اور اپنی مرغوب چیزوں کو روزوں کی خاطر چھوڑ دیتا ہے اور میں اس کا بدلہ دیتا ہوں اور نیکی دس گنا ملتی ہے۔

—–

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1778       حدیث مرفوع         مکررات 7
خالد بن مخلد، سلیمان بن بلال، ابوحازم، سہل نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ جنت میں ایک دروازہ ہے جس کو ریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس دروازے سے روزے دار ہی داخل ہوں گے کوئی دوسرا داخل نہ ہوگا، کہا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہیں؟ وہ لوگ کھڑے ہوں گے اس دروازہ سے ان کے سوا کوئی داخل نہ ہو سکے گا، جب وہ داخل ہو جائیں گے تو وہ دروازہ بند ہو جائے گا اور اس میں کوئی داخل نہ ہوگا۔

—–

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1780       حدیث مرفوع         مکررات 56
قتیبہ اسماعیل بن جعفر، ابوسہیل اپنے والد سے وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے، تو جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔

—–

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1781       حدیث مرفوع         مکررات 9
یحیی بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، ابن ابی انس تیمیوں کے غلام، ابی انس، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور شیطان زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں۔

—–

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1783       حدیث مرفوع         مکررات 56
مسلم بن ابراہیم، ہشام، یحیی بن ابی سلمہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ جو شخص شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے کھڑا ہو، اسکے اگلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں اور جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ اور جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔

—–

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1785       حدیث مرفوع         مکررات 10
آدم بن ابی ایاس، ابن ابی ذئب، سعید مقبری اپنے والد سے وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہ کیا تو اللہ تعالی کو اس کے کھانا پینا چھوڑ دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔

—–

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1786       حدیث قدسی         مکررات 26
ابراہیم بن موسی، ہشام بن یوسف، ابن جریج، عطاء، ابوصالح زیات ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے فرمایا انسان کے ہر عمل کا بدلہ ہے، مگر روزہ کہ وہ خاص میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں اور روزہ ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو، تو نہ شور مچائے اور نہ فحش باتیں کرے اگر کوئی شخص اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے میں روزہ دار آدمی ہوں اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں مشک کی خوشبو سے زیادہ بہتر ہے روزہ دار کو دو خوشیاں حاصل ہوتی ہیں، جب افطار کرتا ہے۔ تو خوش ہوتا ہے اور جب اپنے رب سے ملے گا تو روزہ کے سبب سے خوش ہوگا۔

—–

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1787       حدیث مرفوع         مکررات 23
عبدان ابوحمزہ، اعمش، ابراہیم، علقمہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود کے ساتھ چل رہا تھا، تو انہوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے فرمایا کہ جو شخص مہر ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو وہ نکاح کرلے اس لئے کہ وہ نگاہ کو نیچی کرتا ہے اور شرمگاہ کو زنا سے محفوظ رکھتا ہے اور جس کو اس کی طاقت نہ ہو تو وہ روزے رکھے اس لئے کہ روزہ اس کو خصی بنا دیتا ہے۔

—–

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1788       حدیث متواتر حدیث مرفوع         مکررات 34
عبداللہ بن مسلمہ، مالک، نافع، عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کا تذکرہ کیا تو فرمایا کہ جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو اور نہ ہی افطار کرو، یہاں تک کہ چاند دیکھ لو اور اگر ابر چھایا ہوا ہو تو تیس دن پورے کرو۔

—–

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1788       حدیث متواتر حدیث مرفوع         مکررات 34
عبداللہ بن مسلمہ، مالک، نافع، عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کا تذکرہ کیا تو فرمایا کہ جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو اور نہ ہی افطار کرو، یہاں تک کہ چاند دیکھ لو اور اگر ابر چھایا ہوا ہو تو تیس دن پورے کرو۔

—–

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1804       حدیث متواتر حدیث مرفوع         مکررات 5
آدم بن ابی ایاس، شعبہ، عبدالعزیز بن صہیب، انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سحری کھاؤ اس لیے کہ سحری کھانے میں برکت ہوتی ہے۔

—–

 
Leave a comment

Posted by on July 24, 2010 in Bukhariposts

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: