RSS

نظرلگنا

18 Jun

Bukhari Sharif
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 689 حدیث مرفوع مکررات 5
محمد بن کثیر، سفیان، معبد بن خالد، عبد اللہ بن شداد، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ یا یہ بیان کیا کہ آپ نے نظر بد لگ جانے پر منتر پڑھ کر پھونکنے کا حکم دیا۔

صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 690 حدیث مرفوع مکررات 2
محمد بن خالد، محمد بن وہب بن عطیہ دمشقی، محمد بن حرب، محمد بن ولید زبیدی، زہری، عروہ بن زبیر، زینب بنت ابی سلمہ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں ایک لڑکی کو دیکھا جس کے چہرے پر نشان تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو جھاڑ پھونک کرو، اس لئے کہ اس کو نظر لگ گئی ہے اور عقیل نے زہری سے روایت کیا کہ مجھ سے عروہ نے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، عبد اللہ بن سالم زبیدی سے اس کے متابع حدیث روایت کی۔

صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 841 حدیث مرفوع مکررات 4
مالک بن اسماعیل، اسرائیل، عثمان بن عبد اللہ بن موہب کہتے ہیں کہ مجھے میرے گھر والوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک پیالہ دے کر بھیجا، اسرائیل نے اس سے تین چلو پانی لیا، جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک تھے، جب کسی کو نظر لگ جاتی یا کوئی تکلیف ہوتی ہو وہ ام سلمہ کے پاس برتن بھیج دیتا، عثمان کا بیان ہے کہ میں نے اس میں جھانک کردیکھا تو مجھے چند سرخ بال نظر آئے۔
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 884 حدیث مرفوع مکررات 6
یحیی ، عبدالرزاق، معمر، ہمام، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نظر لگ جانا حق ہے اور گودھنے سے منع فرمایا۔
.

Sahi Muslim
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 527 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 8
سعید بن منصور، ہشیم، حصین بن عبدالرحمن، سعید ابن جبیر، حضرت حصین بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھا انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے کس نے کل رات ٹوٹنے والے ستارہ کو دیکھا ہے میں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا پھر میں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا پھر میں نے عرض کیا کہ میں اس وقت نماز نہیں پڑھ رہا تھا بلکہ مجھے بچھو نے ڈسا ہوا تھا حضرت سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ پھر تم نے کیا کیا میں نے عرض کیا کہ میں نے جھاڑ پھونک کروائی انہوں نے فرمایا تم نے جھاڑ پھونک کیوں کروائی میں نے عرض کیا کہ اس حدیث کی بنا پر جو شعبی نے ہمیں بیان فرمائی انہوں نے فرمایا کہ شعبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تم سے کونسی حدیث بیان کی ہے میں نے کہا کہ انہوں نے حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی کے حوالہ سے حدیث بیان کی کہ یہ جھاڑ پھونک نفع نہیں دیتا سوائے نظر لگنے یا کاٹے ہوئے کے علاج کے سلسلہ میں حضرت سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے جو کچھ سنا اور اس پر عمل کیا اس نے اچھا کیا مگر ہم سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان فرمائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے سامنے امتیں لائی گئیں تو میں نے کسی نبی کے ساتھ دس سے بھی کم دیکھے اور کسی نبی کے ساتھ ایک آدمی اور دو آدمی دیکھے اور ایسا نبی بھی دیکھا کہ جن کے ساتھ کوئی بھی نہیں پھر میرے سامنے ایک بڑی جماعت لائی گئی تو میں نے انہیں اپنا امتی خیال کیا تو مجھے کہا گیا کہ یہ حضرت موسیٰ اور ان کی امت ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آسمان کے کنارے کی طرف دیکھیں میں نے دیکھا تو بہت بڑی جماعت نظر آئی پھر مجھ سے کہا گیا کہ آسمان کے دوسرے کنارے کی طرف دیکھیں میں نے دیکھا تو ایک بہت بڑی جماعت نظر آئی تو مجھے کہا گیا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہے اور ان میں ستر ہزار آدمی ایسے ہوں گے جو بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے پھر اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں تشریف لے گئے تو صحابی نے کہا کہ شاید ان سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ہیں اور کچھ لوگوں نے کہا کہ شاید ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو پیدائشی مسلمان ہیں اور انہوں نے کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرایا اور بعض لوگوں نے کچھ اور کہا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور پوچھا کہ تم لوگ کس کے بارے میں گفتگو کر رہے ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو نہ منتر کرتے اور نہ منتر کراتے ہیں اور نہ برا شگون لیتے ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں، عکاشہ بن محصن کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا کہ دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے ان لوگوں میں سے کر دے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو انہی میں سے ہے پھر ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے بھی انہی لوگوں میں سے کر دے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عکاشہ تم پر سبقت لے گیا ہے۔

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1052 حدیث مرفوع مکررات 3
یحیی بن یحیی، مالک عبد اللہ بن ابوبکر عباد بن تمیم حضرت ابوبشیر انصاری خبر دیتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض سفروں میں سے کسی سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا نمائندہ بھیجا حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابوبکر کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ لوگ اپنی اپنی سونے کی جگہوں پر تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی آدمی کسی اونٹ کی گردن میں کوئی تانت کا قلادہ یا ہار نہ ڈالے سوائے اس کے کہ اسے کاٹ دیا جائے امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میری رائے یہ ہے کہ وہ اس طرح نظر لگنے کی وجہ سے کرتے تھے۔

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1202 حدیث مرفوع مکررات 0
محمد بن ابی عمر مکی، عبدالعزیز دراوردی یزید بن عبد اللہ بن اسامہ بن ہاد محمد بن ابراہیم، ابوسلمہ عبدالرحمن زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ کو تکلیف ہوتی تو جبریئل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دم کرتے تھے اور انہوں نے یہ کلمات کہے (باسْمِ اللَّهِ يُبْرِيکَ) اللہ کے نام سے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تندرست کرے گا اور ہر بیماری سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شفا دے گا اور حسد کرنے والے کے حسد کے شر سے جب وہ حسد کرے اور ہر نظر لگانے والی آنکھ کے شر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پناہ میں رکھے گا۔

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1204 حدیث مرفوع مکررات 6
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی روایات میں سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نظر لگ جانا حق ہے۔

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1205 حدیث مرفوع مکررات 2
عبد اللہ بن عبدالرحمن دارمی، حجاج بن شاعر، احمد بن خراش عبد اللہ مسلم بن ابراہیم، وہیب ابن طاؤس ابن عباس حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نظر لگ جانا حق ہے اور اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت کرنے والی ہو تو نظر ہے جو اس سے سبقت کر جاتی ہے جب تم سے (بغرض علاج نظر) غسل کرنے کا مطالبہ کیا جائے تو غسل کرلو ۔

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1225 حدیث مرفوع مکررات 5
ابن نمیر، ابی سفیان، معبد بن خالد عبد اللہ بن شداد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ مجھے نظر بد سے دم کرانے کا حکم دتیے تھے۔

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1226 حدیث مرفوع مکررات 5
یحیی بن یحیی، ابوخیثمہ عاصم احول یوسف بن عبد اللہ ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دم کرنے کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے کہا بخار، پہلو کے پھوڑے اور نظر بد میں دم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1227 حدیث مرفوع مکررات 5
ابوبکر بن ابی شیبہ، یحیی بن آدم سفیان، زہیر بن حرب، حمید بن عبدالرحمن حسن ابن صالح عاصم، یوسف بن عبد اللہ انس، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر بد اور پہلو کے پھوڑے میں دم کرنے کی اجازت دی تھی۔

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1229 حدیث مرفوع مکررات 7
عقبہ بن مکرم ابوعاصم، ابن جریج، ابوزبیر، جابر بن عبد اللہ، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آل حزم کو سانپ کے ڈنک میں دم کرنے کی اجازت دی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا کیا بات ہے کہ میں اپنے بھائی یعنی حضرت جعفر کے بیٹوں کے جسموں کو دبلا پتلا دیکھ رہا ہوں کیا انہیں فقر و فاقہ رہتا ہے انہوں نے عرض کیا نہیں بلکہ نظر بد انہیں بہت جلد لگ جاتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں دم کرو انہوں نے کہا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چند کلمات پیش کئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں دم کر۔

Sunan-e-Abudawood

سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 780 حدیث مرفوع مکررات 3
عبد اللہ بن مسلمہ، قعنبی، مالک، عبد اللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم، عباد بن تمیم، حضرت ابوبشیر انصاری سے روایت ہے کہ وہ بعض سفروں میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک قاصد روانہ فرمایا اس وقت لوگ سو رہے تھے کہ ایک اونٹ کی گردن میں تانت کا گنڈا نہ رہنے پائے سب کاٹ دئیے جائیں مالک نے کہا کہ لوگ یہ گنڈے نظر بد سے بچانے کے لئے ڈالتے ہیں۔

سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 481 حدیث مرفوع مکررات 6
احمد بن حنبل، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے براہ راست بیان کی کہ آپ نے فرمایا کہ نظر لگنا حق ہے۔

سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 482 حدیث مرفوع مکررات 0
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، ابراہیم، اسود، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ (حضور کے زمانہ میں) نظر لگانے والے کو حکم دیا جاتا وہ وضو کرتا اور پھر اس مستعمل پانی سے نظر جسے لگی ہے اسے غسل دیا جاتا ہے۔

سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 486 حدیث مرفوع مکررات 2
مسدد، عبد اللہ بن داؤد، مالک بن مغول، حصین، شعبی، عمران بن حصین سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تعویذ نہیں ہے سوائے نظر بد کے یا زہر کے۔

سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 490 حدیث مرفوع مکررات 0
مسدد، عبدالواحد بن زیاد، عثمان بن حکیم، حضرت سہل بن حنیف فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک ندی سے گذرا تو اس میں داخل ہو گیا اور اس میں غسل کیا جب باہر نکلا تو بخار زدہ تھا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسکی اطلاع کی گئی تو فرمایا کہ ابوثابت کو حکم دو کہ وہ تعویذ پڑھے (شیطان سے پناہ مانگے) میں نے عرض کیا کہ اے میرے سردار دوسرے اچھے تعویذ بھی ہیں (شرک سے پاک) آپ نے فرمایا کہ تعویذ تین بیماروں کے واسطے ہے۔ ایک نظر بد کے لیے، دوسرے زہر کے لیے، تیسرے کسی جانور کے ڈس لینے کی صورت میں، امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ زہر سانپ کے ڈسنے سے یا بچھو وغیرہ کے کاٹنے سے ہوتا ہے۔

سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 491 حدیث مرفوع مکررات 5
سلیمان بن داؤد، شریک، عباس، یزید بن ہارون، شریک، عباس بن زریع، شعبی، عباس، انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تعویذ نہیں ہے سوائے نظر بد کے یا زہریلے جانور کے کاٹنے کی وجہ سے یاخون بہنے سے، عباس بن زریع نے اپنی روایت میں نظر بد کا تذکرہ نہیں کیا۔ مذکورہ بالا الفاظ سلیمان بن داؤد کے ہیں۔

سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1309 حدیث مرفوع مکررات 5
عثمان بن ابوشیبہ، جریر، منصور، منہ بن عمرو، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ وحسین رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے پناہ مانگا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ میں تم دونوں کو اللہ تعالی کے کامل اور پورے کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں ہر شیطان سے اور ہر زہریلی چیز سے اور نظر بد سے جو لگنے والی ہو پھر فرماتے ہیں کہ تمہارے باپ (جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام) حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام کے لیے ان ہی کلمات سے پناہ مانگا کرتے تھے۔

Mauta Imam Malik
موطا امام مالک:جلد اول:حدیث نمبر 2252 مکررات 0
ابو امامہ بن سہل بن حنیف کہتے تھے میرے باپ نے غسل کیا خرار میں تو انہوں نے اپنا جبہ اتارا اور عامر بن ربیعہ دیکھ رہے تھے اور سہل خوش رنگ تھے عامر بن ربیعہ نے دیکھ کر کہا میں نے تو آپ سا کوئی آدمی نہیں دیکھا اور نہ کسی بکر عورت کا پوست اسی وقت سہل کو بخار آنے لگا اور سخت بخار آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کوئی شخص آیا اور بیان کیا کہ سہل کو بخار آگیا ہے اب وہ آپ کے ساتھ نہ جائیں گے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سہل کے پاس آئے سہل نے عامر بن ربیعہ کا کہنا بیان کیا آپ نے سن کر فرمایا کیا مار ڈالے گا ایک تم میں سے اپنے بھائی کو (اور عامر کو کہا) کیوں تو نےبارک اللہ نہیں کہا (یعنی برکت دے اللہ جل جلالہ ، یا ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ جیسے دوسری روایت میں ہے) نظر لگنا سچ ہے سہل کے لئے وضو کر۔ پھر عامر نے سہل کے واسطے وضو کیا (دوسری حدیث میں اس کا بیان آتا ہے) بعد اسکے سہل اچھے ہوگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے۔

موطا امام مالک:جلد اول:حدیث نمبر 2253 مکررات 0
ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ عامر بن ربیعہ نے سہل بن حنیف کو نہاتے ہوئے دیکھ لیا تو کہا میں نے آپ کا سا کوئی آدمی نہیں دیکھا نہ کسی پردہ نشین بالکل باہر نہ نکلنے والی عورت کی ایسی کھال دیکھی یہ کہتے ہی سہل اپنی جگہ سے گر پڑے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آکر بیان کیا اور کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ سہل بن حنیف کی خبر بھی لیتے ہیں قسم خدا کی وہ اپنا سر بھی نہیں اٹھاتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہاری دانست میں کس نے اس کو نظر لگائی انہوں نے کہا عامر بن ربیعہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عامر بن ربیعہ کو بلایا اور اس پر غصے ہوئے اور فرمایا کیوں قتل کرنا ہے ایک تم میں سے اپنے بھائی کو تو نے بارک اللہ کیوں نہ کہا اب غسل کر اس کے واسطے عامر نے اپنے منہ اور ہاتھ اور کہنیاں اور گٹھنے اور پاؤں کے کنارے اور تہ بند کے نیچے کا بدن پانی سے دھو کر اس پانی کو ایک برتن میں جمع کیا وہ پانی سہل پر ڈالا گیا سہل اچھے ہو گئے اور لوگوں کے ساتھ چلے ۔

موطا امام مالک:جلد اول:حدیث نمبر 2254 مکررات 0
حمید بن قیس مکی سے روایت ہے کہ جعفر بن ابی طالب کے دو لڑکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے آپ نے انکی دایہ سے کہا کیا سبب ہے یہ لڑکے دبلے ہیں وہ بولی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انکو نظر لگ جاتی ہے اور ہم نے منتر اس واسطے نہ کیا کہ معلوم نہیں آپ انکو پسند کرتے ہیں یا نہیں۔آپ نے فرمایا منتر کرو انکے واسطے کیونکہ اگر کوئی چیز تقدیر سے آگے بڑھتی تو نظر بڑھتی۔
موطا امام مالک:جلد اول:حدیث نمبر 2255 مکررات 0
عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بی بی ام سلمہ کے مکان میں گئے اور گھر میں ایک لڑکا رو رہا تھا لوگوں نے کہا اس کو نظر لگ گئی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا منتر کیوں نہیں کرتے اس کے لئے ۔

 
Leave a comment

Posted by on June 18, 2010 in Ahadiths

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: