RSS

طلاق

19 Jun

کتاب  صحیح بخاری      جلد  2      حدیث نمبر  2023      مکررات  52      ریکارڈ  52/1     ریکاڈ نمبر 1122023
یحیی بن بکیر، لیث، عقیل بن شہاب، سالم، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی جب کہ وہ حائضہ تھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر غصہ کا اظہار کیا پھر فرمایا کہ اس کو لوٹا لے پھر اس کو روک رکھے یہاں تک کہ پاک ہوجائے پھر حیض آئے اور پاک ہو لے پھر اگر اس کو طلاق دینے کی خواہش ہو تو اس کو جماع سے قبل پاکی کی حالت میں طلاق دے یہی عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ (آیت) اور حمل والی عورتیں ان کی عدت یہ ہے کہ بچہ جن لیں اور جو شخص کہ اللہ سے ڈرا اللہ تعالیٰ اس کے کام کو آسان بنا دیتا ہے “واُولاَتِ الَاحمَالِ” اس کا واحد ذات حمل (حمل والی عورت ہے) ۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح بخاری      جلد  3      حدیث نمبر  235      مکررات  52      ریکارڈ  52/2     ریکاڈ نمبر 1130235
اسماعیل بن عبد اللہ ، مالک، نافع، عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بحالت حیض طلاق دے دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ اس کو رجوع کرنے کا حکم دو، پھر وہ اس کو روکے رکھے، یہاں تک کہ پاک ہوجائے، پھر حیض آئے پھر پاک ہوجائے پھر اگر چاہے تو اس کے بعد اپنے پاس رہنے دے اور اگر چاہے تو صحبت کرنے سے پہلے طلاق دے، یہی وہ عدت ہے، جس کے لئے عورتوں کو طلاق دیئے جانے کا حکم اللہ تعالی نے دیاہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح بخاری      جلد  3      حدیث نمبر  236      مکررات  52      ریکارڈ  52/3     ریکاڈ نمبر 1130236
سلیمان بن حرب، شعبہ، انس بن سیرین، ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اپنی بیوی سے رجوع کرلے، میں نے کہا کیا وہ طلاق شمار ہوگی؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں، اور قتادہ نے بواسطہ یونس، ابن جبیر، ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کی، آپ نے فرمایا کہ اس کو اس سے رجوع کا حکم دو، میں نے کہا وہ طلاق شمار کی جائے گی، آپ نے فرمایا اگر کوئی شخص عاجز ہو اور احمق ہوگیا ہو (تو کیا طلاق نہ ہوگی) اور ابومعمر، عبدالوارث، ایوب، سعید بن جبیر، ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ پر ایک طلاق شمار کی گئی۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح بخاری      جلد  3      حدیث نمبر  240      مکررات  52      ریکارڈ  52/4     ریکاڈ نمبر 1130240
حجاج بن منہال، ہمام بن یحیی ، قتادہ، ابوغلاب، یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی (تواس کا کیا حکم ہے؟) انہوں نے کہا، تو ابن عمر کو جانتا ہے، ابن عمر نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ سے بیان کیا، تو آپ نے ان کو حکم دیا کہ اس سے رجوع کرلے، جب وہ پاک ہوجائے اور طلاق دینا چاہے تو اسے طلاق دے دے، میں نے پوچھا کیا اس کو طلاق شمار کیا، انہوں نے کہا بتاو تو سہی کہ اگر کوئی شخص عاجز اور احمق ہوجائے (تواس کا کیا علاج ہے) ۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح بخاری      جلد  3      حدیث نمبر  306      مکررات  52      ریکارڈ  52/5     ریکاڈ نمبر 1130306
حجاج، یزید بن ابراہیم، محمد بن سیرین، یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی، حضرت عمرنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے ان کو حکم دیا کہ اس سے رجوع کرلے، پھر جب عدت کا زمانہ آئے تو اس میں طلاق دے، میں نے پوچھا کہ یہ طلاق شمار کی جائے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص عاجز اور احمق ہوجائے تو کیا اس کی طلاق نہ ہوگی۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح بخاری      جلد  3      حدیث نمبر  2030      مکررات  52      ریکارڈ  52/6     ریکاڈ نمبر 1132030
محمد بن ابو یعقوب کرمانی، حسان بن ابراہیم، یونس، محمد، سالم، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بیان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر غصہ میں آئے اور فرمایا کہ اس کو چاہیے کہ رجوع کرے اور اسے اپنے پاس رہنے دے یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائے پھر حیض آئے اور پاک ہوجائے پھر اگر طلاق دینا چاہے تو اس کو طلاق دے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  1158      مکررات  52      ریکارڈ  52/7     ریکاڈ نمبر 1221158
یحیی بن یحیی تمیمی، مالک بن انس، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اپنی بیوی کو اس حال میں طلاق دی کہ وہ حائضہ تھیں تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا ان کو حکم دو کہ وہ رجوع کرلیں پھر وہ اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے پھر حائضہ ہو جائے پھر پاک ہوجائے پھر اس کے بعد اگر چاہیں روک رکھیں اور اگر چاہیں تو طلاق دیدیں اس سے پہلے کہ ان کو چھوئیں تو یہی وہ عدت ہے جس طرح اللہ تعالی نے ان عورتوں کے لئے حکم دیا ہے جنہیں طلاق دی گئی ہو۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  1159      مکررات  52      ریکارڈ  52/8     ریکاڈ نمبر 1221159
یحیی بن یحیی، قتیبہ بن سعید، ابن رمح، قتیبہ، لیث، لیث بن سعد، نافع، حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی ایک طلاق۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجوع کرنے کا حکم دیا پھر وہ اس سے رکے رہے یہاں تک کہ وہ پاک ہوگئی پھر انہی کے پاس حیض آیا دوسرا حیض پھر اسے چھوڑے رکھا یہاں تک کہ وہ پاک ہوگئی اپنے حیض سے۔ پس اگر وہ اسے طلاق دینے کا ارادہ کرتے تو اسے طلاق دیتے جب وہ پاک ہوئی جماع کرنے سے پہلے۔ پس یہ وہ عدت ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے ان کیلئے جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو اور ابن رمح نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ عبد اللہ سے جب اس بارے میں پوچھا جاتا تو فرماتے کہ اگر تو نے اپنی بیوی کو ایک یا دو مرتبہ طلاق دی تھی۔ (توتم رجوع کرسکتے ہو) کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے مجھے یہی حکم دیا تھا یا اگر تو نے تین طلاقیں دیں تو تجھ پر حرام ہوگئی۔ یہاں تک کہ تیرے علاوہ دوسرے خاوند سے نکاح کرے اور تو نے اللہ کی نافرمانی کی جو اس نے تجھے تیری بیوی کی طلاق کے متعلق حکم دیا ۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہالیث اپنے قول تطلیقة واحدة میں زیادہ مضبوط ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  1160      مکررات  52      ریکارڈ  52/9     ریکاڈ نمبر 1221160
محمد بن عبد اللہ بن نمیر، عبید اللہ، نافع، حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو زمانہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حالت حیض میں طلاق دی پھر عمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے اسکا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا اسے حکم دو کہ وہ رجوع کرلے۔ پھر اسے چھوڑ دے یہاں تک کہ پاک ہوجائے پھر اسے دوسرا حیض آئے جب وہ پاک ہوجائے تو اسے طلاق دو ۔ اس سے جماع کرنے سے پہلے یا اسے روکے رکھو ۔ یہ وہ عدت ہے جس کا اللہ نے ان عورتوں کو حکم دیا ہے جنہیں طلاق دی گئی ہو۔عبید اللہ نے کہا میں نے نافع سے کہا کہ اس طلاق کا کیا ہوا جو عدت کے وقت دی گئی تھی ۔ تو انہوں نے کہا ایک شمار کی گئی۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  1161      مکررات  52      ریکارڈ  52/10     ریکاڈ نمبر 1221161
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن مثنی، عبد اللہ بن ادریس، عبید اللہ، نافع، ابن مثنیان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  1162      مکررات  52      ریکارڈ  52/11     ریکاڈ نمبر 1221162
زہیر بن حرب، اسماعیل، ایوب، حضرت نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی۔ عمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے حکم دیا کہ وہ اس سے رجوع کرلے۔ پھر اسے چھوڑے رکھے۔ یہاں تک کہ اسے دوسرا حیض آئے۔ پھر بھی اسے چھونے سے پہلے طلاق دیدے۔ پس یہ وہ عدت ہے جس کا اللہ عزوجل نے ان عورتوں کو حکم دیا ہے جنہیں طلاق دی گئی ہو ۔ نافع کہتے ہیں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جب اس آدمی کے بارے میں پوچھا جاتا جس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی ہوتی تو وہ فرماتے تو نے ایک طلاق دی یا دو؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اسے حکم دیارجوع کرنے کا پھر اسے چھوڑے رکھا یہاں تک کہ اسے دوسرا حیض آئے۔ پھر اسے چھوڑ دے یہاں تک کہ پاک ہوجائے۔ پھر اسے چھونے سے پہلے طلاق دے اور اگر تو نے اسے تین طلاقیں (اکٹھی) دے دیں تو تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اس حکم میں جو اس نے تجھے تیری بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں دیا اور وہ تجھ سے بائنہ (جدا) ہوجائے گی۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  1163      مکررات  52      ریکارڈ  52/12     ریکاڈ نمبر 1221163
عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم، محمد و ھو ابن اخی، زہری، سالم بن عبد اللہ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس بات کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناراض ہوئے پھر فرمایا اسے حکم دو کہ وہ رجوع کرلے یہاں تک کہ آنے والا حیض آئے سوائے اس حیض کے جس میں اسے طلاق دی گئی پس اگر مناسب سمجھیں کہ اسے دینی ہے تو چاہیے کہ اسے چھونے سے پہلے حیض سے پاکی کی حالت میں طلاق دے پس یہ طلاق عورت کے لئے ہوگی جیسا کہ اللہ نے حکم دیا ہے اور عبد اللہ نے اسے طلاق دے دی تھی پھر ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر رجوع کرلیا تھا۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  1164      مکررات  52      ریکارڈ  52/13     ریکاڈ نمبر 1221164
اسحاق بن منصور، یزید بن عبدربہ، محمد بن حرب، ، زبیدی، زہری، حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ پھر میں نے اس سے رجوع کرلیا اور اس بیوی کے لئے اس طلاق کا حساب لگایا جائے گا جسے میں نے طلاق دی تھی۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  1166      مکررات  52      ریکارڈ  52/14     ریکاڈ نمبر 1221166
احمد بن عثمان ابن حکیم، خالدبن مخلد، سلیمان ابن بلال، عبد اللہ بن دینار، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسے حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کر لے۔ یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے پھر اسے دوسرا حیض آئے پھر پاک ہو پھر اس کے بعد طلاق دے یا روک لے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  1167      مکررات  52      ریکارڈ  52/15     ریکاڈ نمبر 1221167
علی بن حجر سعدی، اسماعیل بن ابراہیم، ایوب، حضرت ابن سیرین سے روایت ہے کہ میں بیس سال تک ٹھہرا رہا ایک راوی کی روایت پر جسے میں متہم نہیں کرتا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں تین طلاقیں دے دیں تو انہیں حکم دیا گیا کہ وہ اس سے رجوع کو لیں میں جھوٹ سے بچنا چاہتا تھا اور میں یہ حدیث نہیں جانتا تھا یہاں تک کہ میں ابوغلاب یونس بن جبیر باہلی سے ملا اور وہ حافظہ والا تھا اس نے مجھ سے بیان کیا کہ اس نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے اس سے بیان کیا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی اس حال میں کہ وہ حائضہ تھی تو اسے رجوع کرنے کا حکم دیا گیا میں نے کہا کیا یہ طلاق اس پر شمار ہوگی؟ تو انہوں نے کہا کیوں نہیں کیا میں عاجز ہوگیا ہوں یا احمق۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  1168      مکررات  52      ریکارڈ  52/16     ریکاڈ نمبر 1221168
ابوربیع، قتیبہ، حماد، ایوب اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اس میں یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  1169      مکررات  52      ریکارڈ  52/17     ریکاڈ نمبر 1221169
عبدالوارث بن عبدالصمد، ایوب اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اس میں یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں رجوع کرنے کا حکم دیا یہاں تک کہ اسے طہر میں طلاق دے جماع کئے بغیر اور عدت کے شروع میں طلاق دے دیں
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  1170      مکررات  52      ریکارڈ  52/18     ریکاڈ نمبر 1221170
یعقوب بن ابراہیم دورقی، ابن علیہ، یونس، محمد بن سیرین، حضرت یونس بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ ایک آدمی نے حالت حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دی ہے تو انہوں نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رجوع کرنے کا حکم دیا اور وہ عورت پھر دوبارہ عدت شروع کرے راوی کہتے ہیں میں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دے تو کیا وہ طلاق شمار کی جائے گی؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں کیا وہ عاجز ہوگیا ہے یا احمق جو شمار نہ کرے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  1171      مکررات  52      ریکارڈ  52/19     ریکاڈ نمبر 1221171
ابن مثنی و ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت یونس بن جبیر سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا چاہئے کہ اس سے رجوج کرے جب پاک ہو جائے اگر چاہے تو اسے طلاق دیدے میں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طلاق کو شمار بھی کیا؟ تو انہوں نے کہا اس میں کیا مانع موجود ہے؟ کیا تم ابن عمر کو عاجز یا احمق خیال کرتے ہو۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  1172      مکررات  52      ریکارڈ  52/20     ریکاڈ نمبر 1221172
یحیی بن یحیی، خالد بن عبد اللہ، عبدالملک، حضرت انس بن سیرین سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کی اس بیوی کے متعلق پوچھا جسے انہوں نے طلاق دیدے تھی تو انہوں نے کہا میں نے اسے حالت حیض میں طلاق دیدے تھی پھر میں نے اس کا ذکر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسے حکم دو کہ وہ رجوع کر لے جب وہ پاک ہو جائے تو اس کا طہر کی وجہ سے طلاق دے راوی کہتا ہے میں نے کہا کیا آپ نے وہ طلاق شمار کی تھی جو آپ نے حالت حیض میں دی تھی؟ انہوں نے کہا مجھے کیا ہے کہ میں اسے شمار نہ کرتا؟ کیا میں عاجز اور احمق ہوگیا ہوں۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  1173      مکررات  52      ریکارڈ  52/21     ریکاڈ نمبر 1221173
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، انس بن سیرین، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسے رجوع کرنے کا حکم دو پھر جب وہ پاک ہو جائے تو طلاق دیدے میں نے ابن عمر سے کہا کیا وہ طلاق شمار کی گئی تھی؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  1174      مکررات  52      ریکارڈ  52/22     ریکاڈ نمبر 1221174
یحیی بن حبیب، خالدبن حارث،  عبدالرحمن  بن بشر، بہز، شعبہ اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ راوی کہتا ہے میں نے ان سے کہا کی تم نے وہ طلاق شمار کی تھی تو انہوں نے کہا کیوں نہیں
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  1175      مکررات  52      ریکارڈ  52/23     ریکاڈ نمبر 1221175
اسحاق بن ابراہیم، عبدالرزاق، ابن جریج، ابن طاؤس نے اپنے باپ سے روایت کی ہے انہوں نے سنا کہ ابن عمر سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تو انہوں نے فرمایا کیا تو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پہچانتا ہے؟ اس نے کہا جی ہاں تو کہا اس نے اپنی بیوی کو حیض میں طلاق دی اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے رجوع کرنے کا حکم دیا ابن طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث اپنے باپ سے نہیں سنی۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  1176      مکررات  52      ریکارڈ  52/24     ریکاڈ نمبر 1221176
ہارون بن عبد اللہ، حجاج بن محمد، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت عبدالرحمن بن ایمن عزہ کے مولی سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا اور ابوالزبیر سن رہے تھے کہ جس آدمی نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی آپ اس کے بارے میں کیا حکم بیان کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دیدی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو کہا کہ ابن عمرنے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہے تو انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رجوع کرنے کا فرمایا اور کہا کہ جب وہ پاک ہو جائے تو چاہے طلاق دے دے چاہے روک لے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی (يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمْ النِّسَائَ فَطَلِّقُوهُنَّ فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ) اے نبی جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کی ابتداء میں طلاق دو۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  1177      مکررات  52      ریکارڈ  52/25     ریکاڈ نمبر 1221177
ہارون بن عبد اللہ، ابوعاصم، ابن جریج، ابی زبیر، ابن عمراسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  1178      مکررات  52      ریکارڈ  52/26     ریکاڈ نمبر 1221178
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت عبدالرحمن بن ایمن مولی عروہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا جبکہ ابوالزبیر سن رہے تھے باقی حدیث حجاج کی طرح ہے اور اس میں بعض اضافہ بھی ہے مسلم نے کہا کہ راوی نے مولی عروہ کہنے میں غلطی کی ہے حقیقتا یہ مولی عزہ ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن ابوداؤد      جلد  2      حدیث نمبر  412      مکررات  52      ریکارڈ  52/27     ریکاڈ نمبر 1320412
قعنبی، مالک، نافع، حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ انہوں نے زمانہ رسالت میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دیدی تو حضرت عمر بن الخطاب نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو چاہیے کہ وہ اس سے رجوع کرے پھر اس کو اپنے پاس رکھے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے پھر حیض آئے پھر پاک ہو اس کے بعد اگر چاہے تو اس کو رکھ لے یا چاہے تو جماع کیے بغیر اس کو طلاق دیدے پس یہ ہے وہ عدت جس کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ اس میں عورتوں کو طلاق دی جائے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن ابوداؤد      جلد  2      حدیث نمبر  413      مکررات  52      ریکارڈ  52/28     ریکاڈ نمبر 1320413
قتیبہ بن سعید، لیث، نافع، حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی جیسا کہ پہلے گزرا۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن ابوداؤد      جلد  2      حدیث نمبر  414      مکررات  52      ریکارڈ  52/29     ریکاڈ نمبر 1320414
عثمان بن ابی شیبہ وکیع، سلیمان، محمد بن عبدالرحمن، ابوطلحہ، سالم، حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی حضرت عمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس سے کہو کہ رجوع کرے پھر جب پاک ہو جائے یا حاملہ ہو جائے تو طلاق دیدے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن ابوداؤد      جلد  2      حدیث نمبر  415      مکررات  52      ریکارڈ  52/30     ریکاڈ نمبر 1320415
احمد بن صالح، عنبسہ، یونس، ابن شہاب، سالم بن عبد اللہ، حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی حضرت عمر نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصہ میں آ گئے اور فرمایا کہ اس کو کہہ دو کہ وہ اس سے رجوع کر لے پھر اس کو اپنے پاس رکھے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے پھر اس کو دوسرا حیض آئے اور وہ پھر حیض سے پاک ہو اس کے بعد اگر چاہے تو چلاق دیدے پاکی کی حالت میں جماع کیے بغیر اور یہ طلاق کی عدت کے مناسب ہے جس کا اللہ تعالی نے حکم فرمایا ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن ابوداؤد      جلد  2      حدیث نمبر  416      مکررات  52      ریکارڈ  52/31     ریکاڈ نمبر 1320416
حسن بن علی، عبدالرزاق، معمر، ایوب، ابن سیرین، حضرت یونس بن جبیر سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر سے پوچھا کہ تم اپنی بیوی کو کتنی طلاقیں دی تھیں؟ انہوں نے کہا ایک۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن ابوداؤد      جلد  2      حدیث نمبر  417      مکررات  52      ریکارڈ  52/32     ریکاڈ نمبر 1320417
قعنبی، یزید بن ابراہیم، محمد بن سیرین، حضرت یونس بن جبیر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر سے مسئلہ دریافت کیا کہ ایک شخص نے حیض کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دی (تو اس کا کیا حکم ہوگا) انہوں نے پوچھا کہ کیا تو ابن عمر کو جانتا ہے؟ میں نے کہا ہاں انہوں نے (اپنے بارے میں) کہا کہ ابن عمر نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تو حضرت عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس سے کہو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کرے اور پھر (اگر چاہے تو) عدت کے شروع میں طلاق دے (یعنی حیض سے پاک ہوتے ہی) میں نے کہا (پہلی طلاق جو اس نے حیض کی حالت میں دی تھی) شمار ہوگی ابن عمر نے کہا کیوں نہیں بھلا اگر وہ رجعت نہ کرتا اور حماقت نہ کرتا تو کیا وہ طلاق محسوب نہ ہوتی؟
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن ابوداؤد      جلد  2      حدیث نمبر  418      مکررات  52      ریکارڈ  52/33     ریکاڈ نمبر 1320418
احمد بن صالح، عبدالرزاق، ابن جریج، حضرت ابوالزبیر نے حضرت عروہ کے آزاد کردہ غلام عبدالرحمن بن یمن کو حضرت عبد اللہ ابن عمر سے سوال کرتے ہوئے سنا کہ انہوں نے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی؟ (ابن عمر نے اپنا واقعہ بیان کیا کہ) عبد اللہ بن عمر نے زمانہ رسالت میں اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی پس حضرت عمر نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا (کہ میرے بیٹے) عبد اللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دیدی عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں کہ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو مجھ پر لوٹا دیا (یعنی مجھے رجعت کا حکم دیا) اور اس طلاق کا اعتبار نہیں کیا اور فرمایا جب وہ حیض سے پاک ہو جائے تو تجھے اختیار ہے چاہے طلاق دے چاہے اپنے پاس رکھ لے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمْ النِّسَائَ فَطَلِّقُوهُنَّ فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ یعنی اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تم اپنی بیویوں (میں سے کسی) کو طلاق دینا چاہو تو ان کا آغاز طہر میں طلاق دو ابوداؤد نے کہا کہ اس حدیث کو ابن عمر سے یونس بن جبیر اور انس بن سیرین اور سعید بن جبیر اور زید بن اسلم اور ابوالزبیر و منصور وغیرہ نے بسند ابی وائل نقل کیا ہے سب نے یہی روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ رجوع کریں یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے اس کے بعد اختیار ہے چاہے تو طلاق دے اور چاہے تو حسب سابق اپنے پاس رکھیں اور اسی طرح احمد بن عبدالرحمن نے بواسطہ سالم ابن عمر سے مروی ہے اس میں یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی سے رجعت کریں یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے اس کے بعد اختیار ہے چاہے تو طلاق دیں اور چاہے تو اپنے پاس رکھیں اور عطاء خراسانی سے بھی بسند حسن ابن عمر سے اسی طرح مروی ہے جیسا کہ نافع اور زہری سے مروی ہے اور تمام احادیث ابوالزبیر کے اس قول (لم یرھا شیئا) کے خلاف ہیں۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  1328      مکررات  52      ریکارڈ  52/34     ریکاڈ نمبر 1421328
عبید اللہ بن سعید، یحیی بن سعید، عبید اللہ بن عمر، نافع، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور وہ اس وقت حالت حیض میں تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اس بات کا تذکرہ فرمایا یعنی یہ بات دریافت کی کہ عبد اللہ کا یہ طلاق دینا درست ہے یا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم عبد اللہ سے یہ بات بیان کرو کہ وہ اپنے قول سے رجوع کر لیں یعنی اس طلاق کو توڑ دیں اور وہ عورت کو اپنی بیوی بنا لیں پھر اس کو پاک ہونے تک چھوڑ دیں جس وقت وہ حالت حیض سے پاک ہو جائیں اور پھر دوسری مرتبہ حائضہ ہو کر پاک ہو جائے۔ تب اگر اس کا دل چاہے تو ان سے وہ علیحدگی اختیار کر لیں۔ صحبت کرنے سے پہلے پہلے اور اگر چھوڑنے کو دل نہ چاہے تو رکھ لے اس لیے کہ خداوند قدوس بزرگی اور عزت والے نے خواتین کو ان کی عدت کے مطابق طلاق دے دینے کا حکم فرمایا ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  1329      مکررات  52      ریکارڈ  52/35     ریکاڈ نمبر 1421329
محمد بن سلمہ، ابن قاسم، مالک، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے دور نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اپنی اہلیہ کو طلاق دی اور وہ حالت حیض میں تھیں۔ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت فرمایا۔ یعنی حضرت عبد اللہ نے حالت حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے یہ طلاق دینا کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم حضرت عبد اللہ سے کہو کہ وہ اپنی بیوی کی جانب رجوع کر لیں۔ پھر وہ ان کو روکے رکھیں۔ یہاں تک کہ وہ حالت حیض سے پاک ہو جائیں۔ پھر جس وقت اس کو دوسرا حیض آ جائے اور وہ اس سے پاک ہو جائیں تو جب اگر عبد اللہ کا دل چاہے تو اس کو رکھ لیں یا طلاق دے دیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ اس دوسرے حیض کے بعد بھی ان کے پاس نہ جائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہی عدت ہے اور خدا تعالی نے اسی کے مطابق طلاق دینے کا حکم فرمایا ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  1330      مکررات  52      ریکارڈ  52/36     ریکاڈ نمبر 1421330
کثیر بن عبید، محمد بن حرب، زبیدی، حضرت زہری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت زہری سے کسی نے یہ دریافت کیا کہ عدت پر طلاق کس طرح سے واقع ہوتی ہے؟ یعنی خداوند قدوس نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے تو اس کے معنی کیا ہوئے اور عدت کے دوران طلاق دینا کس طریقہ سے ہوتا ہے؟ حضرت زہری نے جواب دیا کہ میں نے حضرت سالم بن عبد اللہ سے سنا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے تھے کہ میں نے اپنی بیوی کو دور نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں طلاق دی اور وہ خاتون اس وقت حالت حیض میں تھیں۔ پھر میرے والد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس واقعہ کا تذکرہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس وقت یہ بات سنی تو ان کو غصہ آگیا اور وہ فرمانے لگے عبد اللہ کو اس واسطے رجوع کرنا مناسب ہے اور ان کو چاہیے کہ وہ طلاق سے رجوع کر لیں اور عورت کو پاک ہونے دینا چاہیے پھر اگر اس کو طلاق دینا بہتر ہوا تو عورت کو طلاق دینا چاہیے۔ وہ اس عورت کو پاکی کی حالت میں ہم بستری کرے بغیر طلاق دے دیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہی معنی ہیں آیت کریمہ میں کے یہی معنی ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں میں نے رجوع کیا اور اس طلاق کو حساب میں لگایا یعنی میں نے جو طلاق دی تھی اس کا میں نے حساب لگایا۔ اس لیے کہ وہ طلاق اگرچہ سنتوں کے خلاف تھی اور حرام تھی لیکن طلاق واقع ہو چکی تھی۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  1331      مکررات  52      ریکارڈ  52/37     ریکاڈ نمبر 1421331
محمد بن اسماعیل بن ابراہیم، عبد اللہ بن محمد بن ثمیم، حجاج، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت عبدالرحمن بن ایمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر سے دریافت کیا ایسے شخص سے متعلق آپکی کیا رائے ہے کہ جس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی ہو۔ اس پر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے دور نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بیوی کو ایسی حالت میں طلاق دی کہ جس وقت اس کو حیض آرہا تھا۔ حضرت عمر نے یہ مسئلہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو ایسی حالت میں طلاق دے دی ہے کہ جب کہ وہ بیوی حائضہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رجوع کرنا مناسب ہے (یعنی عبد اللہ بن عمر طلاق سے رجوع کر لیں) اور انہوں نے اس طلاق کو میری جانب لوٹا دیا اور فرمایا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس وقت عورت پاک ہو (یعنی حیض نے آرہا ہو) تو اس کو اس وقت طلاق دینا یا نہ دینا یہ تمہارا اختیار ہے اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آیت کریمہ تلاوت فرمائی جس کا ترجمہ یہ ہے یعنی اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تم طلاق دو اپنی عورتوں کو تو تم ان کو طلاق دو ان کی عدت سے پہلے پہلے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  1335      مکررات  52      ریکارڈ  52/38     ریکاڈ نمبر 1421335
محمد بن عبدالاعلی، معتمر، عبید اللہ بن عمر، نافع، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے طلاق دی یعنی حضرت عبد اللہ بن عمر نے اپنی اہلیہ محترمہ کو طلاق حالت حیض میں دے دی تو حضرت عمر حضرت رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس واقعہ سے مطلع فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم حضرت عبد اللہ سے کہو کہ وہ اس کی جانب رجوع کریں پھر جس وقت وہ عورت حیض سے پاک ہو جائے اور وہ غسل کر لے تو اس کو ٹھہرے رہنے دے یہاں تک کہ وہ عورت دوسرے حیض سے فراغت حاصل کر لے اور اسے نہ ہم بستری کرے اس کو پھر طلاق دے پھر اگر چاہے اس سے صحبت کرے تو رکھ لے اس کو اور طلاق نہ دے اس لیے کہ خداوند قدوس نے جس عدت کے مطابق طلاق دینے کا حکم فرمایا ہے یہ وہ ہی عدت ہے یعنی اس طریقہ سے طلاق دینے کا نام عدت پر طلاق دینا فرمایا ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  1336      مکررات  52      ریکارڈ  52/39     ریکاڈ نمبر 1421336
محمود بن غیلان، وکیع، سفیان، محمد بن عبد الرحمن، طلحہ، سالم بن عبد اللہ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ محترمہ کو حالت حیض میں طلاق دے دی چنانچہ اس واقعہ کا تذکرہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس سے کہو کہ وہ اس سے رجوع کر لیں پھر جس وقت وہ عورت پاک ہو جائے گی یا حاملہ ہو جائے گی تو تم اس کو اس وقت طلاق دینا۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  1337      مکررات  52      ریکارڈ  52/40     ریکاڈ نمبر 1421337
زیاد بن ایوب، ہشیم، ابوبشر، سعید بن جبیر، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ محترمہ کو حالت حیض میں طلاق دے دی۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی جانب اس خاتون کو واپس فرما دیا۔ یہاں تک کہ جب وہ خاتون پاک ہو گئیں (حیض سے) تو جب ان کو طلاق دی۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  1338      مکررات  52      ریکارڈ  52/41     ریکاڈ نمبر 1421338
قتیبہ ، حماد، ایوب، محمد، حضرت یونس بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ جس کسی نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ تم چاہتے ہو کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو انہوں نے اپنی اہلیہ محترمہ کو طلاق دے دی تھی حالت حیض میں پھر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسئلہ دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اس کو حکم دو کہ وہ اپنی بیوی (کی طلاق سے) رجوع کر لے۔ پھر وہ اس کی عدت کا انتظار کرے میں نے عرض کیا کہ تم جو طلاق دے چکے ہو وہ تو واقع ہو چکی ہے اور وہ شمار ہوگی انہوں نے کہا کہ کس وجہ سے نہیں اور اگر طلاق سے رجوع نہ کرتے اور حماقت کرتے رہتے تو کیا وہ طلاق شمار نہ ہوتی۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  1339      مکررات  52      ریکارڈ  52/42     ریکاڈ نمبر 1421339
یعقوب بن ابراہیم، ابن علیہ، یونس، محمد بن سیرین، حضرت یونس بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ جس کسی نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی حضرت ابن عمر فرمانے لگے کہ تم چاہتے ہو کہ حضرت عبد اللہ بن عمر کو، انہوں نے اپنی اہلیہ محترمہ کو طلاق دے دی تھی حالت حیض میں پھر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت عمر نے مسئلہ دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اس کو حکم دو کہ وہ اپنی بیوی (کی طلاق سے) رجوع کر لے۔ پھر وہ اس کی عدت کا انتظار کرے میں نے عرض کیا کہ تم جو طلاق دے چکے ہو وہ تو واقع ہو چکی ہے اور وہ شمار ہوگی انہوں نے کہا کہ کس وجہ سے نہیں اور اگر طلاق سے رجوع نہ کرتے اور حماقت کرتے رہتے تو کیا وہ طلاق شمار نہ ہوتی۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  1495      مکررات  52      ریکارڈ  52/43     ریکاڈ نمبر 1421495
محمد بن مثنی، محمد، شعبہ، قتادہ، یونس بن جبیر، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی اہلیہ کو حیض کی حالت میں طلاق دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو حکم دے دو کہ اس طلاق سے رجوع کر لے اور اگر طلاق ہی دینا چاہتا ہو تو جس وقت وہ حیض سے پاک ہو جائے تو طلاق دے دے راوی کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عروہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کیا پہلی والی طلاق بھی شمار کی جائے گی؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے شمار نہ کیے جانے کی کیا وجہ ہے؟ پھر دیکھو کہ اگر کوئی عاجز ہو جائے یا حماقت اور بے وقوفی کرے تو کیا وہ طلاق شمار نہیں ہو گی؟
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  1496      مکررات  52      ریکارڈ  52/44     ریکاڈ نمبر 1421496
بشر بن خالد یحیی بن آدم، ابن ادریس، محمد بن اسحاق، یحیی بن سعید و عبید اللہ بن عمر، نافع، ابن عمرح زہیر، موسیٰ بن عقبہ، نافع، حضرت نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مطلع کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو حکم دو کہ وہ اس طلاق سے رجعت کر لے اور دوسرے حیض سے پاک ہونے تک وہ اس کو نکاح میں رکھے پھر اگر دل چاہے تو طلاق دے دے اور اگر رکھنا چاہے تو رکھ لے کیونکہ خداوند قدوس نے قرآن کریم میں اسی طرح سے طلاق دینے کا حکم فرمایا ہے چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے یعنی ان کو عدت کے مطابق طلاق دو۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  1497      مکررات  52      ریکارڈ  52/45     ریکاڈ نمبر 1421497
علی بن حجر، اسماعیل، ایوب، حضرت نافع فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی ہو اس کا کیا حکم ہے؟ تو فرماتے اگر اس نے ایک یا دو طلاقیں دی ہیں تو ایسی صورت میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی یہ ہے کہ اس سے رجعت کرلو اور دوسرے حیض سے پاک ہونے تک اپنے پاس رکھ لے پھر اگر طلاق دینا چاہتا ہو تو اس سے رجعت سے قبل قبل طلاق دے دے لیکن اگر اس نے ایک ہی ساتھ تین طلاقیں دے دی ہیں تو اس نے خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی نافرمانی کی اور اس کی بیوی بھی بائنہ ہو گئی۔ (مطلب یہ ہے کہ اب حلالہ کے بغیر پہلے شوہر کے لیے وہ عورت حلال نہیں رہی)۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  1498      مکررات  52      ریکارڈ  52/46     ریکاڈ نمبر 1421498
یوسف بن عیسی، فضل بن موسی، حنظلہ، سالم، حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کو حالت میں حیض طلاق دے دی تو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم فرمایا کہ وہ طلاق سے رجوع کر لیں۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  1499      مکررات  52      ریکارڈ  52/47     ریکاڈ نمبر 1421499
عمرو بن علی، ابوعاصم، ابن جریج، حضرت طاؤس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ جس نے اپنی اہلیہ کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہو وہ فرمانے لگے کیا تم حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے واقف ہو؟ اس نے عرض کیا جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا اس نے بھی اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تھی۔ چنانچہ حضرت عمر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ اس سے رجوع کر لیں اور اس کے پاک ہونے تک اپنے نکاح میں رکھ لے۔ راوی نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اس سے زیادہ نقل نہیں کیا۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  جامع ترمذی      جلد  1      حدیث نمبر  1174      مکررات  52      ریکارڈ  52/48     ریکاڈ نمبر 1511174
قتیبہ بن سعید، حماد بن زید، ایوب، محمد بن سیرین، حضرت یونس بن جبیر سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو اپنی بیویوں کو ایام حیض میں طلاق دیتا ہے فرمایا تم عبد اللہ بن عمر کو جانتے ہو؟ انہوں نے بھی اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تھی جس پر حضرت عمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا آپ نے انہیں رجوع کرنے کا حکم دیا، حضرت عمر نے پوچھا کیا وہ طلاق بھی گنی جائے گی؟ فرمایا خاموش رہو، اگر وہ عاجز ہو اور پاگل ہو جائیں تو کیا ان کی طلاق نہیں گنی جائے گی۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  جامع ترمذی      جلد  1      حدیث نمبر  1175      مکررات  52      ریکارڈ  52/49     ریکاڈ نمبر 1511175
ھناد، وکیع، سفیان، محمد بن عبدالرحمن، طلعہ، حضرت سالم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ایام حیض میں طلاق دی جس پر حضرت عمر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا انہیں رجوع کرنے کا حکم دو۔ پھر حاملہ ہونے یا حیض سے پاک ہونے کی صورت میں طلاق دیں حضرت یونس بن جبیر کی ابن عمر اور سالم کی اپنے والد سے مروی حدیث دونوں حسن صحیح ہیں یہ دوسری حدیث حضرت ابن عمر سے کئی سندوں سے مروی ہے اس پر علماء صحابہ اور دیگر علماء کا عمل ہے۔ کہ طلاق سنت یہی ہے کہ ایسے طہر میں طلاق دی جائے جس میں جماع نہ کیا ہو بعض اہل علم کہتے ہیں کہ ایک طہر میں ایک طلاق دینا بھی سنت ہے امام شافعی، احمد کا بھی یہی قول ہے بعض اہل علم فرماتے ہیں کہ طلاق سنت اسی صورت میں ہوگی کہ ایک ہی طلاق دے ثوری اسحاق کا یہی قول ہے حاملہ عورت کو جس وقت چاہے طلاق دے امام شافعی، احمد، اور اسحاق کا یہی قول ہے بعض علماء کے نزدیک اسے ہرماہ میں ایک طلاق دی جائے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن ابن ماجہ      جلد  2      حدیث نمبر  176      مکررات  52      ریکارڈ  52/50     ریکاڈ نمبر 1620176
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبد اللہ بن ادریس، عبید اللہ ، نافع، حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی۔ حضرت عمرنے نبی سے اسکا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا اسے کہو رجعت کرلے یہاں تک اسکی بیوی حیض سے پاک ہو جائے پھر حیض آئے اور اس سے پاک ہو اسکے بعد اگر خواہش ہو تو طلاق دے جماع سے قبل اور اگر چاہے تو نکاح میں رکھے اور یہی عدت ہے عورتوں کی جس کا اللہ عزوجل نے حکم فرمایا
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن ابن ماجہ      جلد  2      حدیث نمبر  179      مکررات  52      ریکارڈ  52/51     ریکاڈ نمبر 1620179
نصر بن علی، عبدالاعلی، ہشام ، محمد، یونس بن جبیر، ابوغلاب، ابن عمر، یونس بن جبیر سے مروی ہے کہ میں نے ابن عمر سے پوچھا ایک مرد نے عورت کو طلاق دی حالت حیض میں ؟ انہوں نے کہا ابن عمر کو پہچانتا ہے۔ انہوں نے طلاق دی اپنی عورت کو حالت حیض میں تو عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے حکم دیا کہ وہ رجوع کرے۔ میں نے کہا یہ طلاق شمار ہوگی یا نہیں ؟ انہوں نے کہا تیرا کیا خیال ہے اگر وہ عاجز ہو یا حماقت کرے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن ابن ماجہ      جلد  2      حدیث نمبر  180      مکررات  52      ریکارڈ  52/52     ریکاڈ نمبر 1620180
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن محمد، وکیع، سفیان، محمد بن عبدالرحمن، مولی، طلحہ، سالم، حضرت ابن عمر نے طلاق دی اپنی عورت کو حالت حیض میں۔ حضرت عمر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسکا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا رجوع کرے پھر طلاق دے جب وہ حیض سے پاک ہو یا حاملہ ہو جائے ۔
_____________________________________________________________________________________

 
Leave a comment

Posted by on June 19, 2009 in Ahadiths

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: