RSS

گری پڑی چیز کا بیان

19 Jun

کتاب صحیح بخاری جلد 1 حدیث نمبر 92 مکررات 27 ریکارڈ 27/1 ریکاڈ نمبر 1110092
عبد اللہ بن محمد، ابوعامر عقدی، سلیمان بن بلال مدینی، ربیعہ بن ابوعبدالرحمن، یزید، (منبعث کے آزاد کردہ غلام) زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک شخص نے گری پڑی چیز کا حکم پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اس کی بندش کو پہچان لے پھر سال بھر اس کی تشہیر کرے (اگر اس کا کوئی مالک نہ ملے تو) اس سے فائدہ اٹھائے، اور اگر اس کا مالک آجائے تو اس کے حوالے کردے، پھر اس شخص نے کہا کہ کھویا ہوا اونٹ اگر ملے؟ تو آپ غضب ناک ہوئے، یہاں تک کہ آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو گئے، پس راوی نے کہا کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا کہ تجھے اس اونٹ سے کیا مطلب، اس کی مشک اور اس کی سم (اس کے پاؤں) اس کے ساتھ ہیں، پانی پر پہنچے گا پانی پی لے گا اور درخت کھائے گا، لہذا اسے چھوڑ دے، یہاں تک کہ اس کو اس کا مالک مل جائے پھر اس شخص نے کہا کہ کھوئی بکری (کا پکڑ لینا کیسا ہے) آپ نے فرمایا کہ اس کو پکڑ لو (کیونکہ وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی) یا اگر (کسی کے) ہاتھ نہ لگی تو بھیڑیے کی۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح بخاری جلد 1 حدیث نمبر 2217 مکررات 27 ریکارڈ 27/2 ریکاڈ نمبر 1112217
اسمعیل، مالک، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، یزید، (منبعث، کے غلام) زید بن خالد سے روایت ہے۔ کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا۔ اور آپ سے گری پڑی چیز کے متعلق پوچھا، تو آپ نے فرمایا اس کی تھیلی اور اس کے سر بندھن کو پہچان لو، پھر اس کو ایک سال تک مشتہر کرو، اگر اس کا مالک آجائے تو خیر ورنہ تمہیں اخیتار ہے، جو چاہو کرو، اس نے پوچھا کہ کھوئی ہوئی بکری؟ آپ نے فرمایا وہ تیری یا تیرے بھائی یا بھیڑیے کی ہے، اس نے پوچھا کھویا ہوا اونٹ؟ آپ نے فرمایا تجھے اس سے کیا سروکار اس کے ساتھ اس کی مشک اور اس کی جوتی ہے، پانی پر پہنچ جائے گا اور درخت سے کھالے گا یہاں تک کہ اس کا مالک اس سے مل جائے گا۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح بخاری جلد 1 حدیث نمبر 2267 مکررات 27 ریکارڈ 27/3 ریکاڈ نمبر 1112267
عمرو بن عباس، عبدالرحمن، سفیان، ربیعہ، یزید (منبعث کے غلام) زید بن خالد جہنی سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک اعرابی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گری پڑی چیز پانے کے متعلق پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک سال تک اس کا اعلان کرو پھر اس کی تھیلی اور سربندھن کو یاد رکھ اگر کوئی شخص آئے جو تجھے اس کی خبر دے تو خیر ورنہ تو اس کو خرچ کر لے اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھوئی ہوئی بکری! آپ نے فرمایا تیرے لئے ہے یا تیرے بھائی کے لئے یا بھیڑے کے لئے اس نے پوچھا کھویا ہوا اونٹ! نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا، اور فرمایا تجھے اس سے کیا کام اس کے ساتھ اس کا جوتا اور مشک ہے، وہ پانی کے پاس اترے گا اور درخت کے پتے کھا لے گا۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح بخاری جلد 1 حدیث نمبر 2268 مکررات 27 ریکارڈ 27/4 ریکاڈ نمبر 1112268
اسمعیل بن عبداللہ ، سلیمان، یحیی، یزید (منبعث کے غلام) زید بن خالد بیان کرتے ہیں، کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گری پڑی چیز کے متعلق دریافت کیا گیا، تو آپ نے فرمایا، کہ اس کی تھیلی اور اس کے سر بندھن کو پہچان لے، پھر سال بھر تک لوگوں کو بتلاتا رہ، یزید نے بیان کیا کہ اگر اس کا پہچاننے والا نہ ملے تو اس کا اٹھا نے والا اس کو خرچ کرے، لیکن وہ اس کے پاس امانت رہے گا یحیی نے کہا، مجھے معلوم نہیں کہ آیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث میں تھا یا اپنی طرف سے یہ بڑھا دیا ہے پھر اس نے پوچھا کہ بھٹکی ہوئی بکری کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا اس کو پکڑلے وہ تیرے لئے ہے، یا تیرے بھائی کیلئے یا بھیڑیئے کے لئے، یزید نے کہا کہ اس کو بھی مشتہر کیا جائے گا، پھر اس نے پوچھا بھولے بھٹکے اونٹ کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا اس کو چھوڑ دے، اس لئے کہ اس کے ساتھ اس کا جوتا اور اس کی مشک ہے وہ پانی کے پاس اترتا ہے اور درخت سے کھاتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لیتا ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح بخاری جلد 1 حدیث نمبر 2269 مکررات 27 ریکارڈ 27/5 ریکاڈ نمبر 1112269
عبد اللہ بن یوسف، مالک، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، یزید (منبعث کے غلام) زید بن خالد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے لقطہ (گری پڑی چیز) کے متعلق پوچھا، آپ نے فرمایا۔ کہ اس کی تھیلی اور سر بندھن پہچان لے پھر ایک سال تک اس کو لوگوں سے پوچھ اگر اس کا مالک آئے تو خیر، ورنہ تجھے اخیتار ہے، اس نے پوچھا بھٹکی ہوئے بکری؟ آپ نے فرمایا وہ تیرے لئے ہے، یا تیرے بھائی کے لئے، یا بھیڑیئے کے لئے، پھر اس نے پوچھا گم شدہ اونٹ؟ آپ نے فرمایا تجھے اونٹ سے کیا مطلب! حالانکہ اس کے ساتھ اس کا موزہ اور مشک سے وہ پانی کے پاس اترتا ہے اور درخت سے کھا لیتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اس سے مل جاتا ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح بخاری جلد 1 حدیث نمبر 2273 مکررات 27 ریکارڈ 27/6 ریکاڈ نمبر 1112273
قتیبہ بن سعید، اسماعیل بن جعفر، ربیعہ بن ابی عبد الر حمن، یزید (منبعث کے غلام) زید بن خالد جہنی سے روایت کرتے ہیں، کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پڑی ہوئی چیز کے متعلق پوچھا! تو آپ نے فرمایا سال بھر تک اس مشتہر کرتا رہ، پھر اس کے ظرف اور سر بندھن کو پہچان لے، پھر اس کو خرچ کر اور اس کا مالک آئے تو اس کو دے دے، لوگوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھٹکی ہوئی بکری؟ آپ نے فرمایا تو اس کو لے لے، اس لئے کہ وہ تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی یا بھیڑیئے کے لیے ہے، اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گم شدہ اونٹ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غصہ آگیا، یہاں تک کہ دونوں رخسار سرخ ہو گئے یا یہ کہا کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، پھر فرمایا کہ تمہیں اونٹ سے کیا سرو کار، حالانکہ اسکے ساتھ اس کا جوتا اور مشک ہے، یہاں تک کہ اسکا مالک اس کو پا لیتا ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح بخاری جلد 1 حدیث نمبر 2275 مکررات 27 ریکارڈ 27/7 ریکاڈ نمبر 1112275
عبدان، کے والد، شعبہ سے انہوں نے سلمہ سے اس حدیث کو بیان کیا اور کہا کہ میں اس کے بعد ان سے مکہ میں ملا تو انہوں نے کہا مجھے یاد نہیں کہ تین سال تک یا ایک سال تک اعلان کرنے کو کہا تھا۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح بخاری جلد 1 حدیث نمبر 2276 مکررات 27 ریکارڈ 27/8 ریکاڈ نمبر 1112276
محمد بن یوسف، سفیان، ربیعہ، یزید (منبعث کے غلام) زید بن خالد سے روایت کرتے ہیں، کہ ایک اعرابی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لقطہ کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اس کو ایک سال تک مشتہر کرو اگر کوئی شخص اس کے ظرف اور اس کے سر بند ھن کا پتہ بتائے تو خیر، ورنہ اسکو خرچ کرو، اس نے بھٹکے ہوئے اونٹ کے متعلق پوچھا، تو آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا، اور فرمایا تجھے اونٹ سے کیا سرو کا ر، حالانکہ اس کے ساتھ اس کا مشک ہے اور اس کا موزہ ہے وہ پانی کے پاس آتا ہے، اور درخت سے کھاتا ہے تم اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے اور بھٹکی ہوئی بکری کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا وہ تیرے لئے ہے یا تیرے بھائی کے لئے یا بھیڑیئے کے لئے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح بخاری جلد 3 حدیث نمبر 270 مکررات 27 ریکارڈ 27/9 ریکاڈ نمبر 1130270
علی بن عبد اللہ ، سفیان، یحیی بن سعید، یزید (منبعث کے غلام) کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کھوئی ہوئی بکری کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اسکو پکڑلو، اس لئے کہ وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا بھڑئیے کی ہے، بھٹکے ہوئے اونٹ کے متعلق پوچھا تو آپ غضبناک ہوگئے اور دونوں رخسار سرخ ہوگئے اور فرمایا تجھے اس سے کیا سروکار، اونٹ کے ساتھ تو اس کا دانہ پانی موجود ہے، وہ پانی پئے گا اور درخت کھائے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو مل جائے گا، اور لقطہ کے متعلق آپ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس کی ہتھیلی اور اس کا سربندھن پہچان لے اور اس کو ایک سال تک مشتہر کرتا رہے ، اگر کوئی شخص آئے جو اس کو پہچان لے تو خیر ورنہ اس کو اپنے مال کے ساتھ ملالے، سفیان کا بیان ہے کہ میں ربیعہ بن عبدالرحمن سے ملا اور میں نے ان سے اس کے سوا کچھ بھی نہیں یاد کیا، میں نے پوچھا کیا یزید (منبعث کے غلام) کی حدیث گم شدہ جانور کے بارے میں زیدبن خالد سے مروی ہے انہوں نے کہا ہاں یحیی بیان کرتے ہیں کہ ربیعہ کہتے تھے کہ یزید (منبعث کے غلام) سے روایت کرتے ہیں کہ سفیان نے بیان کیا کہ میں ربیعہ سے ملا تھا اور ان سے میں نے پوچھا تھا۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح بخاری جلد 3 حدیث نمبر 1045 مکررات 27 ریکارڈ 27/10 ریکاڈ نمبر 1131045
محمد، اسماعیل بن جعفر، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، یزید (منبعث کے آزاد کردہ غلام) زید بن خالد جہنی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہ (گری پڑی ہوئی چیز) کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اس کو ایک سال تک مشتہر کرو، پھر اس کے سربندھن کو پہچان رکھ، پھر اس کو خرچ کر ڈال، پھر اگر اس کا مالک آجائے تو اس کو دے دو، اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! گم شدہ بکری کا کیا حکم ہے، آپ نے فرمایا تو اس کو لے لے، اس لئے کہ وہ تیرا ہے یا تیرے بھائی کا یا بھڑیئے کا ہے، اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! کھوئے ہوئے اونٹ کا کیا حکم ہے؟ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ بہت غصہ ہوئے، یہاں تک کہ آپ کے دونوں رخسار یا چہرہ سرخ ہوگیا، پھر فرمایا کہ تجھے اس سے کیا سروکار! جب کہ اس کا کھانا اور پانی اس کے ساتھ ہے، یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پالیتا ہے،
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 3 حدیث نمبر 1 مکررات 27 ریکارڈ 27/11 ریکاڈ نمبر 1230001
یحیی بن یحیی، مالک، ربیعة بن عبدالرحمن، یزید مولی منبعث، حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہ کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان رکھ پھر ایک سال تک اس کا اعلان کر تو اگر اس کا مالک آ جائے تو ٹھیک ورنہ اسے تو رکھ لے اس نے عرض کیا گمشدہ بکری کا کیا حکم ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تیرے لئے یا تیرے بھائی کے لئے یا بھیڑئے کے لئے ہے اس نے عرض کیا گمشدہ اونٹ کے بارے میں کیا حکم ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے اس سے کیا ہے اس کے ساتھ اس کی مشک ہے اور اس کا جوتا بھی اس کے ساتھ ہے وہ پانی کے گھاٹ پر جائے گا اور درختوں کے پتے کھائے گا یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پکڑ لے گا۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 3 حدیث نمبر 2 مکررات 27 ریکارڈ 27/12 ریکاڈ نمبر 1230002
یحیی بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، اسماعیل، ابن جعفر، ربیعة بن ابی عبدالرحمن، یزید مولی منبعث حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہ کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک سال تک اعلان کر پھر اس کے باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلے کی پہچان کو یاد رکھ پھر اسے خرچ کر لے تو اگر اس کا مالک آجائے تو اسے اس کو لوٹا دے اس آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول گمشدہ بکری کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے پکڑ لو کیونکہ وہ تیرے لئے ہے یا تیرے بھائی کے لئے ہے اس نے عرض کیا گمشدہ اونٹ کے بارے میں راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آ گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار مبارک سرخ ہو گئے یا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے اس اونٹ سے کیا ہے اس اونٹ کے ساتھ اس کا جوتا ہے اور اس کا مشک ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پکڑلے گا۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 3 حدیث نمبر 3 مکررات 27 ریکارڈ 27/13 ریکاڈ نمبر 1230003
ابوالطاہر، عبد اللہ بن وہب سفیان الثوری، مالک بن انس، و عمر بن حارث ربیعة بن ابی عبدالرحمن اس سندوں سے بھی یہ حدیث اسی طرح منقول ہے سوائے اس کے کہ اس میں یہ زائد ہے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں بھی اس کے ساتھ ساتھ تھا اس نے لقطہ کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور عمرو کی حدیث میں ہے کہ جب اس کا طلب کرنے والا نہ آئے تو تم اسے خرچ کر ڈالو۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 3 حدیث نمبر 4 مکررات 27 ریکارڈ 27/14 ریکاڈ نمبر 1230004
احمد بن عثمان، ابن حکیم الاودی، خالد بن مخلد، سلیمان ابن بلال، ربیعة ابن ابی عبدالرحمن، یزید مولی منبعث حضرت زید بن جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا پھر آگے اسی طرح حدیث نقل کی سوائے اس کے اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی سرخ ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد یہ بھی زائد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر ایک سال تک اعلان کرو اور اگر اس کا مالک نہ آئے تو پھر وہ چیز تیرے پاس امانت ہو گی۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 3 حدیث نمبر 5 مکررات 27 ریکارڈ 27/15 ریکاڈ نمبر 1230005
عبد اللہ بن مسلمة بن قعنب، سلیمان ابن بلال، یحیی بن سعید، یزید مولی منعبث حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے یا چاندی کے لقطہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس تھیلی کے باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان کو یاد رکھو پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو پھر اگر کوئی اسے نہ پہچانے تو تو اس کو خرچ کر ڈال لیکن یہ تیرے پاس امانت ہوگی پھر اگر کسی زمانے کے کسی دن اس کا متلاشی آ جائے تو تو اسے اس کو واپس کر دے اور اس آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے اس اونٹ سے کیا غرض اسے چھوڑ کیونکہ اس کی جوتی اور اس کی مشک اس کے ساتھ ہے وہ پانی پر جائے گا اور درخت کے پتے کھائے گا یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لے گا اور پھر اس آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکری کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اسے پکڑ لے کیونکہ وہ بکری تیرے لئے یا تیرے بھائی کے لئے ہے یا بھیڑیئے کے لئے ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 3 حدیث نمبر 6 مکررات 27 ریکارڈ 27/16 ریکاڈ نمبر 1230006
اسحاق بن منصور، حبان بن ہلال، حماد بن سلمہ، یحیی بن سعید، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا ربیعہ کی حدیث میں یہ زائد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار مبارک سرخ ہو گئے اور اس میں یہ بھی زائد ہے کہ اگر اس کا مالک آ جائے تو اس کے تھیلے کو اور اس کے عدد کو پہچان لے تو وہ اسے دے دو ورنہ وہ تیرے لئے ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 3 حدیث نمبر 7 مکررات 27 ریکارڈ 27/17 ریکاڈ نمبر 1230007
ابوالطاہر احمد بن عمرو بن سرح، عبد اللہ بن وہب، ضحاک بن عثمان بن ابی النضر، بسر بن سعید، حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک سال تک اس کا اعلان کر پھر اگر وہ چیز نہ پہچانی جائے تو اس تھیلے اور اس کے باندھنے کی ڈوری کو یاد رکھ پھر اس کو کھا لے اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے وہ چیز ادا کر دو۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 3 حدیث نمبر 8 مکررات 27 ریکارڈ 27/18 ریکاڈ نمبر 1230008
اسحاق بن منصور، ابوبکر الحنفی،حضرت ضحاک بن عثمان ان سندوں کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور اس میں فرماتے ہیں کہ اگر وہ چیز پہچان لی جائے تو اسے ادا کر ورنہ اس تھیلے اور اس کے باندھنے کی ڈروی اور اس کے عدد کو یاد رکھو۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب سنن ابوداؤد جلد 1 حدیث نمبر 1691 مکررات 27 ریکارڈ 27/19 ریکاڈ نمبر 1311691
قتیبہ بن سعید، اسماعیل بن جعفر، ربیعہ، بن ابی عبدالرحمن یزید، منبعث، حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لقطہ (گری پڑی چیز اٹھانے کے) متعلق دریافت کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک سال تک تشہیر کر پھر اس کا سر بندھن اور تھیلی یاد رکھ پھر اس کو خرچ ڈال اس کے بعد اگر اس کا مالک آجائے تو اس کو لوٹا دے وہ شخص بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر کسی کی گم شدہ بکری ہم کو مل جائے تو ہم کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو پکڑ لے کیونکہ وہ یا تو تیری ہے یا تیرے بھائی کی ہے یا پھر کسی بھیڑئے کی وہ شخص بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر بھولا بھٹکا اونٹ مل جائے تو کیا کرنا چاہیے؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غصہ آگیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تجھے اونٹ سے کیا لینا دینا؟ وہ اپنا جوتا اور اپنا مشکیزہ اپنے ساتھ رکھتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک آجائے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب سنن ابوداؤد جلد 1 حدیث نمبر 1692 مکررات 27 ریکارڈ 27/20 ریکاڈ نمبر 1311692
ابن سرح، ابن وہب، حضرت مالک سے بھی اسی سند و معنی کے ساتھ روایت ہے اس میں یہ زیادہ ہے کہ وہ پانی پیتا ہے اور درخت کھاتا ہے اس روایت میں بھولا بھٹکی بکری کے بارے میں یہ نہیں ہے کہ اس کو پکڑ لے اور لقطہ کے متعلق یہ ہے کہ ایک سال تک اس کی تشہیر کر پس اگر اس کا مالک آجائے تو خیر ورنہ خود اس سے فائدہ اٹھا نیز اس میں لفظ استنفق یعنی خرچ کر ڈال نہیں ہے ابوداؤد کہتے ہیں کہ اس کو ثوری دلیمان بن ہلال اور حماد بن سلمہ نے ربیعہ سے اسی طرح روایت کیا ہے لیکن انہوں نے لفظ خذھا ذکر نہیں کیا ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب سنن ابوداؤد جلد 1 حدیث نمبر 1693 مکررات 27 ریکارڈ 27/21 ریکاڈ نمبر 1311693
محمد بن رافع، ہارون بن عبد اللہ، ابن ابی فدیک، ضحاک، ابن عثمان، سالم، ابی نضر، بسر بن سعید، حضرت زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لقطہ (یعنی گری پڑی چیز اٹھانے) کے بارے میں سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک سال تک اس کی تشہیر کر اگر اس کو ڈھونڈنے والا آجائے تو اس کو دیدے ورنہ اس کا ظرف اور سر بندھن کو ذہن نشین کر اور اس کو اپنے مصروف میں لے آ اور پھر اس کے بعد اس کا مالک آجائے تو اس کو لوٹا دے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب سنن ابوداؤد جلد 1 حدیث نمبر 1694 مکررات 27 ریکارڈ 27/22 ریکاڈ نمبر 1311694
احمد بن حفص، ابراہیم بن طہمان، عباد بن اسحاق ، عبد اللہ بن یزید، حضرت زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال ہوا (اور حدیث ربیعہ یعنی حدیث بالا کی طرح بیان کیا) کہا سوال ہوا لقطہ (گری پڑی چیز اٹھانے) کے بارے میں فرمایا ایک سال تک تشہیر کر اگر اس کا مالک آجائے تو اس کو دیدے نہیں تو اس کا سر بندھن اور ظرف پہچان رکھ پھر اپنے مال میں اس کو شامل کرے اگر اس کے بعد اس کا مالک آجائے تو اس کو لوٹا دے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب سنن ابوداؤد جلد 1 حدیث نمبر 1695 مکررات 27 ریکارڈ 27/23 ریکاڈ نمبر 1311695
موسی بن اسماعیل، حماد بن سلمہ، حضرت یحیی بن سعید و ربیعہ نے قتیبہ کی سندو مفہوم کے ساتھ روایت کرتے ہوئے اتنا زائد ذکر کیا ہے کہ اگر اس کا تلاش کنندہ آجائے اور تھیلی اور تعداد بتا دے تو اس کو دیدے نیز حماد نے بطریق عبد اللہ بواسطہ عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح ذکر کیا ہے ابوداؤد کہتے ہیں کہ یہ زیادتی جو حماد بن سلمہ نے، سلمہ بن کہیل۔ یحیی بن سعید، عبد اللہ اور ربیعہ کی حدیث میں کی ہے کہ اگر اس کا مالک آجائے اور تھیلی اور تعداد بتا دے تو اس کو دیدے محفوظ نہیں ہے اور حدیث عقبہ بن سوید عن ابیہ عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، نیز حدیث عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہے کہ ایک سال تک اعلان کرے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب جامع ترمذی جلد 1 حدیث نمبر 1388 مکررات 27 ریکارڈ 27/24 ریکاڈ نمبر 1511388
قتیبہ، اسماعیل بن جعفر، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، یزید، حضرت زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم سے لقطہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا ایک سال تک اس کا اعلان اور تشہیر کرو اور پھر اس کی تھیلی وغیرہ اور رسی کو ذہن نشین کرکے خرچ کرلو اور پھر اس کے بعد اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دیدو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر کسی کی گم شدہ بکری ملے تو اس کا کیا حکم ہے آپ نے فرمایا اسے پکڑلو۔ وہ تمہاری یا تمہارے بھائی کی ورنہ اسے کوئی بھیڑیا کھا جائے گا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر کسی کا گمشدہ اونٹ ملے تو اس کا کیا حکم ہے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصہ میں آگئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا۔ پھر آپ نے فرمایا تمہارا اس سے کیا کام ہے اسکے پاس چلنے کے لیے پاؤں بھی ہیں اور ساتھ میں پانی کا ذخیرہ بھی یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پالے۔ اس باب میں ابی بن کعب عبد اللہ بن عمر، جارود بن معلی، عیاض بن حماد اور جریر بن عبد اللہ سے بھی روایات منقول ہیں حدیث زید بن خالد حسن صحیح ہے اور ان سے متعدد اسناد سے مروی ہے منبعث کے مولی یزید کی حدیث بھی کئی سندوں سے انہی سے منقول ہے بعض علماء صحابہ وغیرہ اس پر عمل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ گری پڑی ہوئی چیز کی ایک سال تک تشہیر کرنے کے بعد اسے استعمال کرنا جائز ہے امام شافعی، احمد، اور اسحاق کا یہی قول ہے بعض اہل علم فرماتے ہیں کہ ایک سال تک اس تشہیر کے بعد ھی اگر اس کا مالک نہ پہنچے تو اسے صدقہ کر دے سفیان ثوری، ابن مبارک، اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ غنی ہو تو اس کا ایسی چیز کو استعمال کرنا جائز نہیں۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ اگرچہ وہ غنی ہی ہو پھر بھی وہ گری پڑی ہوئی چیز کو استعمال کرسکتا ہے۔ ان کی دلیل ابی بن کعب کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں حضرت ابی بن کعب کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں حضرت ابی بن کعب نے ایک تھیلی جس میں سو دینار تھے پائی تو نبی کریم نے انہیں حکم دیا کہ ایک سال تک تشہیر کریں پھر نفع اٹھائیں اور حضرت ابی بن کعب، مالدار تھے اور دولت مند صحابہ کرام میں سے تھے انہيں نبی کریم نے تشہیر کا حکم دیا پھر مالک کے نہ ملنے پر استعمال کا حکم دیا اگر گم شدہ چیز حلال نہ ہوتی، تو حضرت علی کے لیے بھی حلال نہ ہوتی کیونکہ آپ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک دینار پایا اس کی تشہیر کی پھر جب کوئی پہچاننے والا نہ ملا تو آپ نے انہیں استعمال کرنے کا حکم دیا حالانکہ حضرت علی کے لیے صدقہ جائز نہیں بعض اہل علم نے بلاتشہیر گم شدہ چیز کو استعمال کرنے کی اجازت دی ہے جب کہ وہ گم شدہ چیز قلیل ہو بعض فرماتے ہیں کہ گم شدہ چیز دینار سے کم ہو تو ایک ہفتہ تک تشہیر کرے۔ اسحاق بن ابراہیم کا یہی قول ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب جامع ترمذی جلد 1 حدیث نمبر 1389 مکررات 27 ریکارڈ 27/25 ریکاڈ نمبر 1511389
محمد بن بشار، ابوبکر، ضحاک بن عثمان، سالم، ابونضر حضرت زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لقطہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا ایک سال تک اس کی تشہیر کرو اور اگر کوئی پہچان لے تو اسے دیدو ورنہ اس کی تعداد تھیلی اور رسی وغیرہ کو ذہن نشین کرکے اسے استعمال کرلو تاکہ اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے سکو۔ یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ اس باب میں یہ حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء اسی پر عمل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ایک سال تک تشہیر کرنے کے بعد لقطہ کو استعمال کرنا جائز ہے امام شافعی، احمد، اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب سنن ابن ماجہ جلد 2 حدیث نمبر 661 مکررات 27 ریکارڈ 27/26 ریکاڈ نمبر 1620661
اسحاق بن اسماعیل بن علاء، سفیان بن عیینہ، یحییٰ بن سعید، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، حضرت زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ نبی سے گمشدہ اونٹ لے لینے کے متعلق دریافت کیا گیا آپ غصہ میں آگئے اور آپ کے رخسار مبارک سرخ ہوگئے اور فرمایا تمہیں اس سے کیا غرض اس کے پاس اس کا جوتا ہے اور مشکیزہ اور وہ خود پانی پر جا کر پانی پیتا ہے اور درختوں کے پتے کھاتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اس تک پہنچ جائے اور اسے پکڑ لے اور آپ سے گمشدہ بکری کے متعلق پوچھا گیا آپ نے فرمایا اسے پکڑ لو وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ورنہ پھر بھیڑئیے کی اور آپ کی گمشدہ چیز کے متعلق پوچھا گیا آپ نے فرمایا اس کی تھیلی اور بندھن کو خوب یاد رکھو اور سال بھر اس کی تشہیر کرو اگر کوئی اسے پہچان لے تو ٹھیک ورنہ اپنے مال میں شامل کرسکتے ہو۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب سنن ابن ماجہ جلد 2 حدیث نمبر 664 مکررات 27 ریکارڈ 27/27 ریکاڈ نمبر 1620664
محمد بن بشار، ابوبکر حنفی، حرملہ بن یحییٰ، عبد اللہ بن وہب، ضحاک بن عثمان، سالم، ابونضر، بشر بن سعید، حضرت زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول سے لقطہ کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا سال بھر اس کی تشہیر کرو اگر کوئی اسے پہچان لے تو اسے وہ دے دو اور اگر کوئی بھی اسے نہ پہچانے تو اس کی تھیلی اور بندھن کو خوب یاد رکھو پھر اسے خرچ کرلو پھر اگر اس کا مالک آجائے تو اس کو ادا کرو۔
_____________________________________________________________________________________

Advertisements
 
Leave a comment

Posted by on June 19, 2009 in Ahadiths

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: