RSS

نکاح

19 Jun

کتاب  صحیح بخاری      جلد  1      حدیث نمبر  1787      مکررات  23      ریکارڈ  23/1     ریکاڈ نمبر 1111787
عبدان ابوحمزہ، اعمش، ابراہیم، علقمہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود کے ساتھ چل رہا تھا، تو انہوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے فرمایا کہ جو شخص مہر ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو وہ نکاح کرلے اس لئے کہ وہ نگاہ کو نیچی کرتا ہے اور شرمگاہ کو زنا سے محفوظ رکھتا ہے اور جس کو اس کی طاقت نہ ہو تو وہ روزے رکھے اس لئے کہ روزہ اس کو خصی بنا دیتا ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح بخاری      جلد  3      حدیث نمبر  58      مکررات  23      ریکارڈ  23/2     ریکاڈ نمبر 1130058
عمر بن حفص، اعمش، ابراہیم، علقمہ روایت کرتے ہیں کہ میں عبد اللہ کے پاس تھا کہ ان سے منی میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ملے اور بولے اے ابوعبدالرحمن! مجھے آپ سے ایک ضروری کام ہے اور وہ دونوں ایک علیحدہ جگہ پر چلے گئے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا اے ابوعبدالرحمن! کیا آپ کا دل چاہتا ہے کہ میں ایک کنواری عورت سے آپ کا نکاح کردوں، جو زمانہ گذشتہ کی آرزوئیں آپ کو یاد دلا دے، عبد اللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے جب دیکھا کہ حضرت عثمان کو بجز اس (مشورہ) کے اور کچھ کام نہیں تو مجھے اشارہ کیا اور فرمایا علقمہ میں ان کے پاس پہنچا اور وہ (بجواب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ) کہہ رہے تھے کہ سنیے! اگر آپ یہ فرماتے ہیں تو ہم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو نکاح کی طاقت رکھے وہ شادی کرلے اور جس میں طاقت نہ ہو وہ روزے رکھے، روزہ اس کو خصی کر دیتا ہے (شہوت کم کر دیتا ہے) ۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح بخاری      جلد  3      حدیث نمبر  59      مکررات  23      ریکارڈ  23/3     ریکاڈ نمبر 1130059
عمر بن حفص بن غیاث، اعمش، عمارہ، عبدالرحمن روایت کرتے ہیں کہ میں علقمہ اور اسود کے ساتھ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے فرمایا ہم جس زمانہ میں جوان تھے اور ہم کو کچھ میسر نہ تھا تو ہم سے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے نوجوانوں کے گروہ! جو کوئی نکاح کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کرلے کیوں کہ نکاح پرائی عورت کو دیکھنے سے نگاہ کو نیچا کر دیتا ہے اور حرام کاری سے بچاتا ہے، البتہ جس میں قوت نہ ہو تو وہ روزہ رکھے کیوں کہ روزہ رکھنے سے شہوت کم ہوجاتی ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  904      مکررات  23      ریکارڈ  23/4     ریکاڈ نمبر 1220904
یحیی بن یحیی تمیمی، محمد بن العلاء ہمدانی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابی معاویہ، اعمش، ابراہیم، حضرت علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ منی کی طرف پیدل چل رہا تھا کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ملاقات ہوئی تو ان کے ساتھ کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے فرمایا اے ابوعبدالرحمن! کیا ہم تیرا نکاح ایک ایسی جوان لڑکی سے نہ کردیں جو تجھے تیری گزری ہوئی عمر میں سے کچھ یاد دلا دے؟ تو حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اگر آپ یہ فرماتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا اے جوانوں کے گروہ تم میں جو نکاح کرنے کی طاقت رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ نکاح کر لے کیونکہ نکاح آنکھوں کو بہت زیادہ نیچے رکھنے والا اور زنا سے محفوظ رکھنے والا ہے اور جو نکاح کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھے کیونکہ روزے رکھنا اس کے لئے خصی نامرد ہونا ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  905      مکررات  23      ریکارڈ  23/5     ریکاڈ نمبر 1220905
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، ابراہیم، حضرت علقمہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ منی کی طرف جا رہا تھا کہ راستے میں حضرت عبد اللہ کی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہوئی تو حضرت عثمان نے فرمایا اے ابوعبدالرحمن ادھر آؤ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عبد اللہ کو علیحدہ لے گئے تو جب حضرت عبد اللہ نے دیکھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کوئی خاص کام نہیں ہے تو انہوں نے مجھ سے فرمایا اے علقمہ تم بھی آجاؤ سو میں بھی آگیا تو حضرت عثمان نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا اے ابوعبدالرحمن کیا ہم تیرا نکاح نوجوان کنواری لڑکی سے نہ کرا دیں تاکہ گزرے ہوئے زمانے کی یاد پھر تازہ ہو جائے تو حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اگر آپ یہ کہتے ہیں آگے حدیث ابومعاویہ کی حدیث کی طرح نقل کی گئی ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  906      مکررات  23      ریکارڈ  23/6     ریکاڈ نمبر 1220906
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، عمارہ بن عمیر،  عبدالرحمن  بن یزید، حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا اے نوجوانوں کے گروہ! جو تم میں سے نکاح کرنے کی طاقت رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ نکاح کر لے کیونکہ نکاح کرنا نگاہ کو بہت زیادہ نیچا رکھنے والا اور زنا سے محفوظ رکھنے والا ہے اور جو نکاح کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھے کیونکہ روزے رکھنا یہ اس کے لئے خصی ہونے کے مترادف ہے
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  907      مکررات  23      ریکارڈ  23/7     ریکاڈ نمبر 1220907
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، عمارہ بن عمیر،  عبدالرحمن  بن یزید، علقمہ، اسود، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ان دنوں میں نوجوان تھا پھر اسی طرح حدیث آپ نے میری وجہ سے بیان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ابومعاویہ کی حدیث ہی کی طرح ہے اور زیادتی یہ ہے کہ میں نے بغیر تاخیر کے شادی کر لی۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  2      حدیث نمبر  908      مکررات  23      ریکارڈ  23/8     ریکاڈ نمبر 1220908
عبد اللہ بن سعید اشج، وکیع، اعمش، عمارہ بن عمیر،  عبدالرحمن  بن یزید، حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم آپکی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں قوم میں سے نوجوان تھا باقی حدیث کی طرح ذکر کی اور اس میں فَلَمْ أَلْبَثْ حَتَّی تَزَوَّجْتُ ذکر نہیں کیا۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن ابوداؤد      جلد  2      حدیث نمبر  278      مکررات  23      ریکارڈ  23/9     ریکاڈ نمبر 1320278
عثمان بن ابی شیبہ، جریر اعمش، ابراہیم، حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عبد اللہ بن مسعود کے ساتھ منی میں جا رہا تھا اتنے میں ان کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ملے اور تنہائی میں گفتگو کرنا چاہی جب عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ان کو نکاح کی ضرورت نہیں ہے تو مجھ سے کہا اے علقمہ آؤ میں آیا اس وقت حضرت عثمان نے کہا اے عبدالرحمن کیا ہم تمھارا نکاح کسی کنواری لڑکی سے نہ کر دیں جو تمھاری کھوئی ہوئی قوت واپس دلا دے اس پر عبد اللہ بن مسعود نے کہا تم یہ بات کہتے ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کرے کیونکہ نکاح نگاہ کو نیچی رکھنے والا اور شرم گاہ کی حفاظت کرنے والا ہے اور جو شخص نکاح کی قوت نہ رکھے (یعنی بیوی کے اخراجات برداشت نہ کر سکے) تو پھر اس کے لیے روزہ ہے کیونکہ روزہ رکھنا اس کے لیے خصی ہونا ہے (یعنی اس سے شہوت کم ہو جائے گی)
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  150      مکررات  23      ریکارڈ  23/10     ریکاڈ نمبر 1420150
محمود بن غیلان، ابواحمد، سفیان، اعمش، عمارة بن عمیر، عبدالرحمن بن یزید، عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نکلے اور ہم لوگ نوجوان تھے اور ہم لوگوں میں (شہوت کے دبانے کی) طاقت نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے جوانوں کے گروہ! اور اے جوانوں کی جماعت! تم لوگ نکاح کرلو کیونکہ نکاح کرنے سے انسان کی نگاہ نیچی رہتی ہے (یعنی نامحرم عورتوں کے دیکھنے سے عام طور سے انسان محفوظ رہتا ہے اور انسان کی شرم گاہ زنا سے بچ جاتی ہے) اور جو شخص نکاح کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ہو وہ شخص روزے رکھ لے کیونکہ روزہ سے شہوت جاتی ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  151      مکررات  23      ریکارڈ  23/11     ریکاڈ نمبر 1420151
بشر بن خالد، محمد بن جعفر، شعبة، سلیمان، ابراہیم، علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے (مقام) عرفات میں ملاقات ہوئی اور تنہائی میں ان سے گفتگو کی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا میں تمہارا نکاح ایک نوجوان خاتون سے کر دوں؟ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور یہ حدیث شریف بیان فرمائی کہ تمہارے میں سے جو کوئی نکاح کرنے کی طاقت رکھے تو وہ شخص نکاح کرے یہ اس کی نظر کی حفاظت کرے گا) یعنی نامحرم عورت کو دیکھنے سے محفوظ رہے گا) اور شرم گاہ کو اچھا رکھے گا اور جو کوئی نکاح کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ شخص روزہ رکھے روزہ اس کو خصی بنا دے گا۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  152      مکررات  23      ریکارڈ  23/12     ریکاڈ نمبر 1420152
ہارون بن  اسحاق ، محاربی، اعمش، ابراہیم، علقمة واسود، عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگوں میں سے جو کوئی نکاح کی قدرت رکھتا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ نکاح کرے جس میں اس قدر طاقت نہ ہو تو وہ شخص روزہ رکھے روزہ اس کو خصی بنا دے گا۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  153      مکررات  23      ریکارڈ  23/13     ریکاڈ نمبر 1420153
ہلال بن العلاء بن ہلال، وہ اپنے والدسے، علی بن ہاشم، اعمش، عمارة، عبدالرحمن بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم لوگ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس وقت ہم لوگوں کے ساتھ حضرت اسود رضی اللہ عنہ اور حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ان حضرات نے ایک حدیث نقل فرمائی۔ میرا خیال ہے کہ وہ حدیث میرے ہی واسطے بیان فرمائی۔ اس لیے کہ میں ان تمام حضرات میں سب سے زیادہ کم عمر تھا۔ (وہ حدیث یہ ہے) کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے نوجوانوں کی جماعت! تم لوگوں میں سے جو شخص نکاح کرنے کی طاقت رکھے تو اس کو چاہیے کہ وہ شخص نکاح کرے کیونکہ نکاح کرنا انسان کی نظر کو (گناہوں سے) باز رکھتا ہے اور شرم گاہ کو اچھا رکھتا ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  154      مکررات  23      ریکارڈ  23/14     ریکاڈ نمبر 1420154
عمرو بن زرارة، اسماعیل، یونس، ابومعشر، ابراہیم، علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں ایک دن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور وہ اس وقت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جوان عورت کے پاس سے گزرے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے میں سے جو کوئی قدرت نکاح رکھتا ہو تو اس کو چاہیے کہ نکاح کر لے اس لیے کہ نکاح انسان کی نظر کو باز رکھتا ہے (یعنی نامحرم کو دیکھنے سے حفاظت رہتی ہے) اور شرم گاہ کو محفوظ رکھتا ہے اور جو شخص اس قدر طاقت نہ رکھے تو وہ روزہ رکھے روزہ اس کو خصی (شہوت کو کم) کر دے گا۔ امام نسائی نے فرمایا اس حدیث شریف میں جو راوی ابو معشر ہیں ان کا نام زیاد بن کلیب ہے اور وہ ثقہ ہیں اور وہ راوی ابراہیم نخعی کے رفقاء میں سے تھے اور ان سے ہی روایت منضور مغیرہ اور شعبہ نے نقل کی اور ایک راوی ابومعشر مدینہ منورہ کے باشندہ ہیں ان کا نام نجیح ہے اور ایک ضعیف راوی ہیں اور انہوں نے ضعیف روایات نقل کرنے کے ساتھ ساتھ منکر احادیث بھی ساتھ شامل کر لی اور ان راوی کی منکر احادیث (اور ضعیف روایات) میں سے ایک روایت وہ ہے کہ جو انہوں نے محمد عمرو سے روایت کی اور انہوں نے حضرت ابو سلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مشرق اور مغرب کے درمیان قبلہ ہے اور ایک روایت وہ ہے جو کہ حضرت ہشام بن عروہ سے روایت کی اور انہوں نے اپنے والد صاحب سے اور انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ سے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ گوشت کو چاقو چھری سے مت کاٹو لیکن اس کو نوچ کر کھاؤ۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  1118      مکررات  23      ریکارڈ  23/15     ریکاڈ نمبر 1421118
عمرو بن زرارہ، اسماعیل، یونس، ابومعشر، ابراہیم، علقمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک دن حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چند نوجوانوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اگر تمہارے میں سے کوئی نان و نفقہ کی قوت رکھتا ہو تو اس کو چاہیے کہ نکاح کرے اس لیے کہ اس سے نگاہ نیچی رہتی ہے اور شرم گاہ کی حفاظت رہتی ہے لیکن اگر کسی شخص میں اس قدر طاقت نہ ہو تو روزہ اس کی شہوت میں کمی کر دے گا۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  1119      مکررات  23      ریکارڈ  23/16     ریکاڈ نمبر 1421119
بشر بن ،خالد، محمد بن جعففر، شعبہ، سلیمان، ابراہیم، حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل چاہے تو میں تمہارا نکاح ایک نوجوان خاتون سے کر دوں۔ پھر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور کہا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے میں سے جو کوئی بیوی کا نان و نفقہ برداشت کرنے کی قوت رکھتا ہو تو اس کو نکاح کر لینا چاہیے اس لیے کہ اس سے نگاہ نیچی رہتی ہے (یعنی نگاہ کی حفاظت رہتی ہے) اور شرم گاہ کی حفاظت رہتی ہے لیکن اگر کسی شخص میں قوت نہ ہو تو وہ شخص روزے رکھ لے اس طریقہ سے اس کی شہوت میں کمی واقع ہو جائے گی۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  1120      مکررات  23      ریکارڈ  23/17     ریکاڈ نمبر 1421120
حضرت عبد اللہ بن مسعود سے اس مضمون کی حدیث نقل ہے امام نسائی فرماتے ہیں اس سند میں مذکور حضرت اسود محفوظ راوی نہیں ہیں۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  1121      مکررات  23      ریکارڈ  23/18     ریکاڈ نمبر 1421121
محمد بن منصور، سفیان، اعمش، عمارہ بن حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے خطاب فرما کر ارشاد فرمایا اے نوجوانو تمہارے میں سے جس شخص میں قوت ہو تو وہ شخص نکاح کرے پھر اسی مضمون کی حدیث نقل فرمائی۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  1122      مکررات  23      ریکارڈ  23/19     ریکاڈ نمبر 1421122
محمد بن علاء، ابومعاویہ، اعمش، عمارہ، عبدالرحمن بن یزید، عبد اللہ، ترجمہ سابق کے مطابق ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن نسائی      جلد  2      حدیث نمبر  1123      مکررات  23      ریکارڈ  23/20     ریکاڈ نمبر 1421123
احمد بن حرب، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ (مقام) منیٰ میں جارہا تھا کہ میری ملاقات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ہوگئی انہوں نے فرمایا اے ابوعبدالرحمن کیا میں آپ کا نکاح ایک نوجوان لڑکی سے نہ کرا دوں جو کہ آپ کو گزرے ہوئے دن یاد کرا دے (یعنی دل خوش کر دے) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ آپ یہ بات آج بیان کر رہے ہو اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے یہ بات بہت پہلے ارشاد فرمائی تھی کہ اے نوجوانو! تم لوگوں میں سے جس میں قوت ہو اس کو نکاح کرنا چاہیے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  جامع ترمذی      جلد  1      حدیث نمبر  1071      مکررات  23      ریکارڈ  23/21     ریکاڈ نمبر 1511071
محمود بن غیلان، ابواحمد، سفیان، اعمش، عمارہ بن عمیر، عبدالرحمن بن یزید، عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے ہم جوان تھے لیکن نکاح کی استطاعت نہیں رکھتے تھے آپ نے فرمایا اے نوجوانوں تم ضرور نکاح کرو کیونکہ یہ آنکھوں کو نیچا رکھتا ہے اور شرمگاہوں کی حفاظت کرتا ہے جسے نکاح کی طاقت نہ ہو وہ روزے رکھے کیوں کہ روزہ اس کے حق میں گویا خصی کرنا ہے (یعنی شہوت ختم ہو جاتی ہے) یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  جامع ترمذی      جلد  1      حدیث نمبر  1072      مکررات  23      ریکارڈ  23/22     ریکاڈ نمبر 1511072
حسن بن علی، عبد اللہ بن نمیر، اعمش، عمارہ ہم سے روایت کی حسن بن علی خلال نے انہوں نے عبد اللہ بن نمیر سے انہوں نے اعمش سے انہوں نے عمارہ سے اسی حدیث کی مثل اور کئی راوی اعمش سے بھی سی کی مثل روایت کرتے ہیں ابومعاویہ اور محاربی بھی اعمش سے وہ ابراہیم وہ علقمہ سے وہ عبد اللہ سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن ابن ماجہ      جلد  2      حدیث نمبر  1      مکررات  23      ریکارڈ  23/23     ریکاڈ نمبر 1620001
عبد اللہ بن عامر بن زرارہ، علی بن مسہر، اعمش، ابراہیم، حضرت علقمہ بن قیس فرماتے ہیں کہ میں منیٰ میں عبد اللہ بن مسعود کے ساتھ تھا۔ حضرت عثمان ان کے ساتھ تنہائی میں ہوئے تو میں انکے قریب بیٹھ گیا۔ حضرت عثمان نے فرمایا تمہارا دل چاہتا ہے کہ میں ایسی لڑکی سے تمہاری شادی کرا دوں جو تمہارے لئے عہد ماضی کی یاد تازہ کرے۔ جب ابن مسعود نے دیکھا کہ حضرت عثمان کو ان سے اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں (راز کی بات نہیں کرنی) تو ہاتھ سے اشارہ سے مجھے بلایا میں حاضر ہوا اس وقت ابن مسعود فرما رہے تھے کہ اگر تم یہ کہہ رہے ہو تو رسول اللہ نے بھی یہ فرمایا ہے کہ اے جوانو! تم میں سے جس میں بھی نکاح کی استطاعت ہو تو وہ شادی کرلے کیونکہ اس سے نگاہ جھکی رہتی ہے اور شرمگاہ کی حفاظت ہوتی ہے۔ اور جس میں نکاح کرنے کی استطاعت نہ ہو تو وہ روزوں کا اہتمام کرے کیونکہ روزہ شہوت کو ختم کر دیتا ہے ۔
_____________________________________________________________________________________

Advertisements
 
Leave a comment

Posted by on June 19, 2009 in Ahadiths

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: