RSS

رضاعت

19 Jun

کتاب صحیح بخاری جلد 1 حدیث نمبر 2469 مکررات 38 ریکارڈ 38/1 ریکاڈ نمبر 1112469
آدم شعبہ حکم عراک بن مالک عروہ بن زبیر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے افلح نے اندر آنے کی اجازت چاہی میں نے اجازت نہیں دی انہوں نے کہا کہ کیا تم مجھ سے پردہ کرتی ہو حالانکہ میں تمہارا چچا ہوں میں نے کہا یہ کیونکر ہو سکتا ہے انہوں نے کہا تم کو میرے بھائی کی بیوی نے میرے بھائی کے دودھ سے پلایا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا افلح سچا ہے اس کو آنے دو۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح بخاری جلد 1 حدیث نمبر 2471 مکررات 38 ریکارڈ 38/2 ریکاڈ نمبر 1112471
عبد اللہ بن یوسف مالک عبداللہ بن ابی بکر عمرہ بنت عبدالرحمن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف فرما تھے کہ انہوں نے ایک مرد کی آواز سنی جو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت چاہتا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ کون آدمی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں آنے کی اجازت چاہتا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ فلاں شخص ہے جو حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا رضاعی چچا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ اگر فلاں شخص جو میرا رضاعی چچا تھا زندہ ہوتا تو کیا میرے پاس آتا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں رضاعت سے وہ سب رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح بخاری جلد 2 حدیث نمبر 349 مکررات 38 ریکارڈ 38/3 ریکاڈ نمبر 1120349
عبد اللہ بن یوسف مالک عبد اللہ بن ابوبکر عمرۃ بنت عبدالرحمن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان (عائشہ) کے پاس تھے کہ اتنے میں انہوں نے کسی آدمی کی آواز سنی جو حضرت حفصہ کے مکان پر جانا چاہ رہا تھا تو میں (عائشہ) نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ آدمی جو آپ کے گھر جانے کا اجازت خواہ ہے یہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا یہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فلانے دودھ شریک چچا ہیں اور رضاعت بھی ان رشتوں کو حرام کردیتی ہے جو ولادت سے حرام ہوتے ہیں۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح بخاری جلد 2 حدیث نمبر 1912 مکررات 38 ریکارڈ 38/4 ریکاڈ نمبر 1121912
ابو الیمان، شعیب، زہری، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ ابوالقیس کے بھائی افلح نے مجھ سے ملنے کی اجازت مانگی میں نے جواب میں کہہ دیا کہ جس وقت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اجازت نہ ہوگی میں تم کو اپنے آپ اجازت نہیں دے سکتی ہوں اور میں نے اس خیال سے اجازت نہیں دی کہ ان کے بھائی ابوالقیس کا تو میں نے دودھ نہیں پیا ہے البتہ ان کی بیوی کا دودھ پیا ہے اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ابوالقیس کے بھائی افلح نے مجھ سے ملنے کی اجازت طلب کی تو میں نے ملنے سے انکار کردیا۔ یہاں تک کہ آپ سے اجازت نہ لے لوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے اپنے چچا کو اجازت کیوں نہیں دی میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے مرد نے تو دودھ نہیں پلایا ہے بلکہ عورت نے پلایا ہے آپ نے فرمایا نہیں وہ تمہارے چچا ہیں عروہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اسی بنا پر کہتی تھی کہ نسبا جو رشتہ حرام ہے رضاعا بھی اسے حرام مانو۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح بخاری جلد 3 حدیث نمبر 90 مکررات 38 ریکارڈ 38/5 ریکاڈ نمبر 1130090
اسماعیل، مالک، عبد اللہ بن ابی بکر، عمرہ بنت عبدالرحمن، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف فرماتے تھے کہ میں نے ایک شخص کی آواز سنی، جو حفصہ کے مکان میں جانے کی اجازت مانگ رہا تھا، تو میں نے کہا یا رسول اللہ کوئی غیر آدمی آپ کے مکان میں جانا چاہتا ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ یہ فلاں شخص ہے جو حفصہ کا رضاعی چچا ہے، حضرت عائشہ نے پوچھا اگر فلاں شخص زندہ ہوتا جو میرا رضاعی چچا تھا تو کیا میں اس سے پردہ نہ کرتی، آپ نے فرمایا ہاں! جو رشتہ نسب سے حرام ہے وہ دودھ پینے سے بھی حرام ہوجاتا ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح بخاری جلد 3 حدیث نمبر 94 مکررات 38 ریکارڈ 38/6 ریکاڈ نمبر 1130094
عبد اللہ بن یوسف، مالک، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد میرے پاس آئے میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت نہ دی، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا تم نے اسے بلا لیا ہوتا کیونکہ وہ تمہارے رضاعی چچا ہیں۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح بخاری جلد 3 حدیث نمبر 223 مکررات 38 ریکارڈ 38/7 ریکاڈ نمبر 1130223
عبد اللہ بن یوسف، مالک، ہشام بن عروہ، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ میرے رضاعی چچا میرے یہاں آئے اور میرے پاس آنے کی اجازت مانگی، میں نے اجازت نہیں دی اور کہا کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لوں گی (اجازت نہیں دے سکتی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات پوچھی، فرمایا وہ تمہارے چچا ہیں، انہیں اندر بلا لیا ہوتا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تو تمہارے چچا ہیں، انہیں تمہارے پاس آنے میں کوئی مضائقہ نہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا یہ پردہ کی آیت کے نزول کے بعد کا واقعہ ہے، حضرت عائشہ کا قول ہے کہ نسب سے جو لوگ حرام ہیں وہی لوگ دودھ کے رشتے سے بھی حرام ہیں۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح بخاری جلد 3 حدیث نمبر 1089 مکررات 38 ریکارڈ 38/8 ریکاڈ نمبر 1131089
یحیی بن بکیر لیث عقیل ابن شہاب عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ابوالقیس کے بھائی افلح نے پردہ کی آیت نازل ہونے کے بعد مجھ سے اندر آنے کی اجازت چاہی تو میں نے کہا میں اجازت نہ دوں گی جب تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت نہ لے لوں اس لئے کہ ابوالقیس کے بھائی نے مجھے دودھ نہیں پلایا ہے بلکہ مجھ کو ابوالقیس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے اس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرد نے مجھ کو دودھ تو نہیں پلایا ہے بلکہ اس کی بیوی نے مجھ کو دودھ پلایا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو اجازت دے دو اس لئے کہ وہ تمہارا چچا ہے تمہارا ہاتھ خاک آلود ہوجائے اسی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی تھیں کہ رضاعت کے سبب سے ان رشتوں کو حرام سمجھو جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 2 حدیث نمبر 1074 مکررات 38 ریکارڈ 38/9 ریکاڈ نمبر 1221074
یحیی بن یحیی، مالک، عبد اللہ بن ابی بکر، حضرت عمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اسے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تھے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آواز سنی کہ ایک آدمی حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں اجازت مانگ رہا ہے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! یہ آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کی اجازت مانگ رہا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرا خیال ہے کہ یہ فلاں ہوگا حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے رضاعی چچا کے بارے میں فرمایا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اگر میرا رضاعی چچا زندہ ہوتا تو کیا وہ میرے پاس ملاقات کے لئے آسکتا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں بے شک رضاعت بھی ان رشتوں کو حرام کر دیتی ہے جن کو ولادت حرام کرتی ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 2 حدیث نمبر 1075 مکررات 38 ریکارڈ 38/10 ریکاڈ نمبر 1221075
ابوکریب، ابواسامہ، ابومعمر، اسماعیل بن ابراہیم، علی بن ہاشم، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو رشتے ولادت سے حرام ہوتے ہیں رضاعت سے بھی حرام ہو جاتے ہیں۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 2 حدیث نمبر 1076 مکررات 38 ریکارڈ 38/11 ریکاڈ نمبر 1221076
اسحاق بن منصور، عبدالرزاق، ابن جریج، عبد اللہ بن ابی بکر، ہشام بن عروہ اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 2 حدیث نمبر 1077 مکررات 38 ریکارڈ 38/12 ریکاڈ نمبر 1221077
یحیی بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ابوالقیس کا بھائی افلح آیا اور عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اجازت طلب کی اور وہ آپ کا رضاعی چچا تھا آیت پردہ کے نزول کے بعد فرماتی ہیں کہ میں نے اسے اجازت دینے سے انکار کردیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے اس عمل کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے اپنے پاس آنے کی اجازت دو۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 2 حدیث نمبر 1078 مکررات 38 ریکارڈ 38/13 ریکاڈ نمبر 1221078
ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، زہری، عروہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میرے پاس میرا رضاعی چچا افلح بن ابی قعیس آیا باقی مالک کی حدیث کی طرح ذکر کی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے کہا کہ مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے نہ کہ آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (محاورۃً) فرمایا تیرا ہاتھ یا فرمایا تیرا داہنا ہاتھ خاک آلود ہو یہ جملہ عرب میں بطور محبت بولا جاتا ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 2 حدیث نمبر 1079 مکررات 38 ریکارڈ 38/14 ریکاڈ نمبر 1221079
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ابوا لقعیس کا بھائی افلح آیت پردہ کے نزول کے بعد آیا اور ان کے پاس آنے کی اجازت مانگی اور ابوالقعیس سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے رضاعی باپ تھے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ میں نے کہا اللہ کی قسم میں افلح کو اجازت نہیں دوں گی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت نہ مانگ لوں کیونکہ ابوقعیس نے تو مجھے دودھ نہیں پلایا بلکہ اس کی بیوی نے مجھے دودھ پلایا ہے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ابوقعیس کے بھائی افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت لینے سے پہلے اسے اجازت دینے کو ناپسند کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسے اجازت دے دو عروہ نے کہا اسی وجہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی تھیں کہ رضاعت سے ان رشتوں کو حرام کرو (سمجھو) جنہیں تم نسب سے حرام کرتے ہو۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 2 حدیث نمبر 1080 مکررات 38 ریکارڈ 38/15 ریکاڈ نمبر 1221080
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ ابوقعیس کا بھائی افلح سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آیا اور آپ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی باقی حدیث گزر چکی اس میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ تیرا چچا ہے تیرا داہنا ہاتھ خاک آلود ہو اور ابوقعیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس عورت کے خاوند تھے جس نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دودھ پلایا تھا۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 2 حدیث نمبر 1081 مکررات 38 ریکارڈ 38/16 ریکاڈ نمبر 1221081
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن نمیر، ہشام، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میرے رضاعی چچا آئے اور میرے پاس آنے کی اجازت مانگی تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کردیا اس وقت تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معلوم کرلوں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ میرے رضاعی چچا نے میرے پاس آنے کی اجازت مانگی لیکن میں نے اسے اجازت دینے سے انکار کردیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تیرا چچا تیرے پاس آسکتا ہے میں نے عرض کیا مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے آدمی نے نہیں پلایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ تیرا چچا ہے اس لئے تیرے پاس آسکتا ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 2 حدیث نمبر 1082 مکررات 38 ریکارڈ 38/17 ریکاڈ نمبر 1221082
ابوربیع زہرانی، حماد ابن زید، ہشام، ابی قعیس دوسری سند ذکر کی ہے اس میں ہے کہ ابوقعیس کے بھائی نے سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اجازت مانگی۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 2 حدیث نمبر 1083 مکررات 38 ریکارڈ 38/18 ریکاڈ نمبر 1221083
یحیی بن یحیی، معاویہ، ہشام، ابی قعیس اسی حدیث کی طرح اس سند سے بھی حدیث مروی ہے لیکن اس میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ابوالقعیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اجازت مانگی۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 2 حدیث نمبر 1084 مکررات 38 ریکارڈ 38/19 ریکاڈ نمبر 1221084
حسن بن حلوانی، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عطاء، عروہ بن زبیر، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میرے رضاعی چچا ابوالجعد نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے انہیں واپس کر دیا راوی کہتا ہے کہ ہشام نے مجھ سے کہا وہ ابوالقعیس تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو نے اسے کیوں اجازت نہ دی؟ تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 2 حدیث نمبر 1085 مکررات 38 ریکارڈ 38/20 ریکاڈ نمبر 1221085
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، یزید بن ابی حبیب، عراک، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ان کا رضاعی چچا جسے افلح کہا جاتا تھا نے مجھ سے ملاقات کی اجازت مانگی تو میں نے ان سے پردہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میں نے اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس سے پردہ نہ کر کیونکہ رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 2 حدیث نمبر 1086 مکررات 38 ریکارڈ 38/21 ریکاڈ نمبر 1221086
عبید اللہ بن معاذ عنبری، شعبہ، حکم، عراک بن مالک، عروہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ افلح بن قعیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی اور میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کردیا تو انہوں نے پیغام بھیجا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچا ہوں میرے بھائی کی بیوی نے آپ کو دودھ پلایا ہے میں نے پھر بھی انہیں اجازت دینے سے انکار کردیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ تیرے پاس آسکتا ہے کیونکہ وہ تیرا چچا ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب سنن ابوداؤد جلد 2 حدیث نمبر 287 مکررات 38 ریکارڈ 38/22 ریکاڈ نمبر 1320287
عبد اللہ بن مسلمہ، مالک، عبد اللہ بن دینار، سلیمان، بن یسار، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دودھ پلانے سے ویسی ہی حرمت قائم ہو جاتی ہے جیسا کہ ولادت سے
_____________________________________________________________________________________
کتاب سنن ابوداؤد جلد 2 حدیث نمبر 289 مکررات 38 ریکارڈ 38/23 ریکاڈ نمبر 1320289
محمد بن کثیر، سفیان، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ افلح بن ابی القیس رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے میں نے ان سے پردہ کر لیا وہ بولے کیا تم مجھ سے پردہ ہو کر تی ہو حالانکہ میں تمہارا چچا ہوں میں نے پوچھا وہ کیسے؟ وہ بولے تمہیں میری بھاوج نے دودھ پلایا ہے میں نے کہا مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں اتنے میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے میں نے یہ مسئلہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیشک یہ تمہارے چچا ہیں اور شوق سے تمہارے پاس آسکتے ہیں۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب سنن نسائی جلد 2 حدیث نمبر 1212 مکررات 38 ریکارڈ 38/24 ریکاڈ نمبر 1421212
عبد اللہ بن سعید، یحیی، مالک، عبد اللہ بن دینار، سلیمان بن یسار، عروہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ولادت کی وجہ سے جو رشتے حرام ہوتے ہیں اس قدر رشتے دودھ پینے کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں یعنی رضاعت کا اور دودھ کا حکم ایک ہی ہے نکاح کے سلسلہ میں۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب سنن نسائی جلد 2 حدیث نمبر 1213 مکررات 38 ریکارڈ 38/25 ریکاڈ نمبر 1421213
قتیبہ، لیث، یزید بن ابوحبیب، عراک، عروہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کو اطلاع ملی کہ ان کے چچا جس کا نام افلح ہے ان کے پاس آنے کی اجازت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور وہ دودھ کے رشتہ سے ان کے چچا تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان سے پردہ کر لیا حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم ان سے پردہ نہ کرو کیونکہ دودھ پینے کی وجہ سے بھی اس قدر لوگ محرم بن جاتے ہیں جتنے کہ نسب کی وجہ سے محرم بن جاتے ہیں۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب سنن نسائی جلد 2 حدیث نمبر 1214 مکررات 38 ریکارڈ 38/26 ریکاڈ نمبر 1421214
محمد بن بشار، یحیی، مالک، عبد اللہ بن ابوبکر، عمرہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دودھ پلانے سے اتنے ہی رشتے حرام ہوتے ہیں کہ جتنے رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب سنن نسائی جلد 2 حدیث نمبر 1215 مکررات 38 ریکارڈ 38/27 ریکاڈ نمبر 1421215
محمد بن عبید، علی بن ہاشم، عبد اللہ بن ابوبکر، ابیہ، عمرہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دودھ پینے یا پلانے کی وجہ سے اس قدر رشتے حرام ہوتے ہیں کہ جس قدر رشتے ولادت کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب سنن نسائی جلد 2 حدیث نمبر 1225 مکررات 38 ریکارڈ 38/28 ریکاڈ نمبر 1421225
ہارون بن عبد اللہ، معن، مالک، عبد اللہ بن بکر، عمرہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف فرما تھے کہ میں نے ایک آدمی کو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے مکان میں داخلہ کی اجازت حاصل کرتے ہوئے سنا۔ تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکان میں داخلہ کی منظوری مانگ رہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری رائے میں وہ شخص حضرت حصفہ رضی اللہ عنہا کا چچا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اگر فلاں آدمی زندہ ہوتا تو وہ میرا دودھ شریک چچا ہوتا اور وہ میرے گھر آیا کرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دودھ کے رشتہ کی وجہ سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو کہ ولادت کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب سنن نسائی جلد 2 حدیث نمبر 1226 مکررات 38 ریکارڈ 38/29 ریکاڈ نمبر 1421226
اسحاق بن ابراہیم، عبدالرزاق، ابن جریج، عطاء، عروہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میرے دودھ شریک چچا ابوجعد رضی اللہ عنہ میرے گھر آئے تو میں نے ان کو واپس کر دیا۔ حضرت ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کی کنیت ابوقیس تھی پھر جس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اپنے چچا کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ان کو اجازت دے دو۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب سنن نسائی جلد 2 حدیث نمبر 1227 مکررات 38 ریکارڈ 38/30 ریکاڈ نمبر 1421227
عبد الوارث بن عبد الصمد بن عبد الوارث، ابیہ، ایوب، وہب بن کیسان، عروہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوقیس کے بھائی نے پردہ کی آیت کریمہ کے نزول کے بعد میرے مکان پر آنے کی اجازت حاصل کرنا چاہی تو میں نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ جس وقت حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں اس بات کا تذکرہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان کو اجازت دے دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں میں نے عرض کیا مجھ کو دودھ عورت نے پلایا تھا مرد نے نہیں پلایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ تمہارے چچا ہیں اور وہ تمہارے یہاں آ سکتے ہیں (یعنی ان سے تمہارا پردہ نہیں ہے)۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب سنن نسائی جلد 2 حدیث نمبر 1228 مکررات 38 ریکارڈ 38/31 ریکاڈ نمبر 1421228
ہارون بن عبد اللہ، معن، مالک، ابن شہاب، عروہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ابوقیس کے بھائی افلح نے جو میرے دودھ شریک چچا تھے میرے یہاں آنے کی اجازت حاصل کی تو میں نے ان کو گھر میں داخلہ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ جس وقت حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مطلع کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم ان کو اجازت دے دو۔ اس لیے کہ وہ تمہارے چچا ہیں (اگرچہ دودھ شریک ہی سہی) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ حکم پردہ سے متعلق حکم نازل ہونے کے بعد کا واقعہ ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب سنن نسائی جلد 2 حدیث نمبر 1229 مکررات 38 ریکارڈ 38/32 ریکاڈ نمبر 1421229
عبدالجبار بن علاء، سفیان، زہری و ہشام بن عروہ، عروہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے چچا افلح نے پردہ کی آیت کریمہ کے نازل ہونے کے بعد میرے گھر داخل ہونے کی اجازت چاہی تو میں نے ان کو اجازت دینے سے انکار کر دیا پھر جس وقت حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم ان کو اجازت دے دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! مجھ کو تو عورت نے دودھ پلایا تھا نہ کہ کسی مرد نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ان کو اجازت دے دو اور تمہارا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو (یعنی تمہارا بھلا ہو) اس لیے کہ وہ تمہارے چچا ہیں۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب سنن نسائی جلد 2 حدیث نمبر 1230 مکررات 38 ریکارڈ 38/33 ریکاڈ نمبر 1421230
ربیع بن سلیمان بن داود، ابوالاسود و اسحاق بن بکر، بکر بن مضر، جعفر بن ربیعہ، عراک بن مالک، عروہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ابوقیس کے بھائی افلح نے میرے یہاں داخل ہونے کی اجازت طلب کی تو میں نے کہا کہ میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیے بغیر منظوری نہیں دے سکتی۔ اس وجہ سے جس وقت حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ ابوقیس کے بھائی افلح نے اندر آنے کی اجازت طلب کی تھی لیکن میں نے انکار کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ان کو اجازت دے دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں میں نے عرض کیا مجھ کو تو ابوقیس کی بیوی نے دودھ پلایا تھا کسی مرد نے نہیں پلایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ان کو اجازت دے دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب جامع ترمذی جلد 1 حدیث نمبر 1144 مکررات 38 ریکارڈ 38/34 ریکاڈ نمبر 1511144
بندار، یحیی بن سعید، مالک بن انس، اسحاق بن موسی، مالک، عبد اللہ بن دینار، سلیمان بن یسار، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے رضاعت سے بھی وہی رشتے حرام کیے ہیں جو ولادت سے حرام کیے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اسی پر عمل ہے اس مسئلہ میں علماء کا اتفاق ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب جامع ترمذی جلد 1 حدیث نمبر 1145 مکررات 38 ریکارڈ 38/35 ریکاڈ نمبر 1511145
حسن بن علی، ابن نمیر، ھشام، حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ میرے پاس میرے رضاعی چچا تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت چاہی، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھے بغیر انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ تمہارے پاس داخل ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ تو تمہارے چچا ہیں حضرت عائشہ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں آپ نے فرمایا انہیں چاہیے کہ وہ تمہارے پاس آجائیں اس لیے کہ وہ تمہارے چچا ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے کہ انہوں نے رضاعی رشتہ والے مرد کے سامنے ہونے کو مکروہ کہا ہے بعض اہل علم نے اس کی جازت دی ہے لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب سنن ابن ماجہ جلد 2 حدیث نمبر 94 مکررات 38 ریکارڈ 38/36 ریکاڈ نمبر 1620094
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبد اللہ بن نمیر، حجاج، حکم، عراک بن مالک، عروہ، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا رضاع سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہیں ۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب سنن ابن ماجہ جلد 2 حدیث نمبر 105 مکررات 38 ریکارڈ 38/37 ریکاڈ نمبر 1620105
ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، زہری، عروہ، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد میرے رضاعی چچا افلح بن قعیس میرے پاس آئے اندر آنے کی اجازت چاہی میں نے اجازت دینے سے انکار کیا۔ یہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا وہ تمہارے چچا ہیں انکو اجازت دیدو۔ میں نے عرض کیا مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے تو نہیں پلایا فرمایا تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں ۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب سنن ابن ماجہ جلد 2 حدیث نمبر 107 مکررات 38 ریکارڈ 38/38 ریکاڈ نمبر 1620107
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالسلام بن حرب، اسحاق بن عبد اللہ بن ابی فردہ، ابی وہب، ابی خراش، حضرت دیلمی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے نکاح میں دو بہنیں تھیں جن سے جاہلیت میں نکاح کیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ واپس جاؤتو ان میں سے ایک کو طلاق دیدینا۔
_____________________________________________________________________________________

Advertisements
 
Leave a comment

Posted by on June 19, 2009 in Ahadiths

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: