RSS

صلہ رحمی

18 Jun

کتاب  صحیح بخاری      جلد  3      حدیث نمبر  911      مکررات  7      ریکارڈ  7/1     ریکاڈ نمبر 1130911
قتیبہ بن سعیدجریر، عمارہ بن قعقاع بن شبرمہ، ابوزرعہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ میرے حسن سلوک کا کون زیادہ مستحق ہے، آپ نے فرمایا تیری ماں، عرض کیا پھر کون؟ آپ نے فرمایا تیری ماں، پوچھا پھرکون؟ آپ نے فرمایا تیری ماں پوچھا پھر کون؟ آپ نے فرمایا تیرا باپ۔ اور ابن شبرمہ اور یحیی بن ابوب نے بیان کیا کہ ابوزرعہ نے ہم سے اسی طرح روایت کی۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  3      حدیث نمبر  2003      مکررات  7      ریکارڈ  7/2     ریکاڈ نمبر 1232003
قتیبہ بن سعید، بن جمیل بن طریف ثقفی زہیر بن حرب، جریر، عمارہ بن قعقاع ابی زرعہ ابوہریرہ بن قعقاع ابی زرعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے اچھے سلوک کا حقدار کون ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری ماں اس آدمی نے عرض کیا پھر کس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری ماں کا اس نے پھر عرض کیا پھر کس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری ماں کا اس نے عرض کیا پھر کس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تیرے باپ کا اس نے عرض کیا پھر کس کا آپ نے فرمایا پھر تیرے باپ کا اور قتیبہ ہی کی روایت میں ہے میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے کا ذکر ہے اور اس میں الناس یعنی لوگوں کا ذکر نہیں ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  3      حدیث نمبر  2004      مکررات  7      ریکارڈ  7/3     ریکاڈ نمبر 1232004
ابوکریب محمد بن علاء ہمدانی ابن فضیل عمارہ بن قعقاع ابی زرعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے اچھے سلوک کا کون حقدار ہے آپ نے ارشاد فرمایا تیری ماں پھر تیری ماں پھر تیری ماں پھر تیرے باپ کا پھر جو تیرے قریب ہو پھر جو تیرے قریب ہو۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  3      حدیث نمبر  2005      مکررات  7      ریکارڈ  7/4     ریکاڈ نمبر 1232005
ابوبکر بن ابی شیبہ ، شریک ، عمارۃ ، ابن شبرمۃ، ابنی زرعۃ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا پھر جریر کی حدیث کی طرح حدیث ذکر کی اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ تیرے باپ کی قسم تجھے آگاہ کر دیا جائے گا ۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  صحیح مسلم      جلد  3      حدیث نمبر  2006      مکررات  7      ریکارڈ  7/5     ریکاڈ نمبر 1232006
محمد بن حاتم، شبابہ، محمد بن طلحہ، احمد بن خراش، حبان ، وھیب ابن شبرمہ سے ان سندوں کے ساتھ روایت ہے وہیب کی روایت میں ہے کہ کون نیکی کا حقدار ہے اور محمد بن طلحہ کی روایت میں ہے کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ کون میرے اچھے سلوک کا زیادہ حقدار ہے پھر جریر کی حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن ابن ماجہ      جلد  2      حدیث نمبر  863      مکررات  7      ریکارڈ  7/6     ریکاڈ نمبر 1620863
ابوبکر بن ابی شیبہ، شریک، عمارہ بن قعقاع بن شبرمہ، ابوزرعہ، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک مرد نبی کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے بتائیے کہ حسن صحبت کی وجہ سے لوگوں کا مجھ پر کیا حق ہے؟ آپ نے فرمایا جی ہاں تیرے باپ کی قسم تجھے بتا دیا جائے گا تیری ماں کا تجھ پر سب سے زیادہ حق ہے کہنے لگا پھر کس کا؟ فرمایا پھر بھی ماں کا بولا پھر کس کا؟ فرمایا پھر بھی ماں کا بولا پھر کس کا فرمایا باپ کا بولا اے اللہ کے رسول مجھے بتائیے کہ اپنے مال میں سے کیسے صدقہ کروں فرمایا جی ہاں اللہ کی قسم تجھے ضرور بتا دیا جائے گا تو تندرست ہو تجھ میں مال کی حرص ہو، تجھے زندگی کی امید ہو اور فقر کا خوف ہو ایسی حالت میں صدقہ کر اور صدقہ میں تاخیر نہ کر یہاں تک کہ جب تیری روح یہاں (حلق میں) پہنچ جائے تو کہے کہ میرا مال فلاں کے لیے ہے اور فلاں کے لیے حالانکہ وہ ان کا ہوچکا ہے خواہ تجھے پسند نہ ہو۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب  سنن ابن ماجہ      جلد  3      حدیث نمبر  539      مکررات  7      ریکارڈ  7/7     ریکاڈ نمبر 1630539
ابوبکرمحمد بن میمون مکی، سفیان بن عیینہ، عمارہ بن قعقاع، ابی زرعہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں لوگوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم کس کے ساتھ حسن سلوک کریں ؟ فرمایا والدہ کے ساتھ پھر پوچھا کس کے ساتھ فرمایا اپنے والد کیساتھ پوچھا جو جتنا زیادہ قریب ہو اس کے ساتھ ۔
_____________________________________________________________________________________

 
Leave a comment

Posted by on June 18, 2009 in Ahadiths

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: