RSS

تقدیر

18 Jun

کتاب صحیح بخاری جلد 2 حدیث نمبر 443 مکررات 12 ریکارڈ 12/1 ریکاڈ نمبر 1120443
حسن بن ربیع ابوالاحوص اعمش زید بن وہب حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور وہ صادق و مصدوق تھے کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش ماں کے پیٹ میں پوری کی جاتی ہے چالیس دن تک (نطفہ رہتا ہے) پھر اتنے ہی دنوں تک مضغہ گوشت رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو چار باتوں کا حکم دے کر بھیجتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اس کا عمل اس کا رزق اور اس کی عمر لکھ دے اور یہ (بھی لکھ دے) کہ وہ بد بخت (جہنمی) ہے یا نیک بخت(جنتی) پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے بیشک تم میں سے ایک آدمی ایسے عمل کرتا ہے کہ اس کے اور جنت کے درمیان (صرف) ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس کا نوشتہ (تقدیر) غالب آجاتا ہے اور وہ دوزخیوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور (ایک آدمی) ایسے عمل کرتا ہے کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان (صرف) ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اتنے میں تقدیر (الٰہی) اس پر غالب آجاتی ہے اور وہ اہل جنت کے کام کرنے لگتا ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح بخاری جلد 2 حدیث نمبر 561 مکررات 12 ریکارڈ 12/2 ریکاڈ نمبر 1120561
عمر بن حفص ان کے والد اعمش زید بن وہب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آپ صادق المصدوق ہیں کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش چالیس دن اس کی ماں کے پیٹ میں پوری کی جاتی ہے پھر چالیس دن میں نطفہ خون بستہ بن جاتا ہے پھر اتنی ہی مدت میں وہ مضغہ گوشت ہوتا ہے پھر اللہ ایک فرشتے کو چار باتوں کا حکم دے کر بھیجتا ہے پس وہ اس کا عمل، اس کی موت، اس کا رزق اور شقاوت یا سعادت لکھ دیتا ہے پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے اور ایک آدمی دوزخیوں جیسا عمل کرتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو فورا اس کا نوشہ تقدیر آگے بڑھتا ہے اور وہ اہل جنت کے سے عمل کرتا ہے اور جنت میں داخل ہوجاتا ہے اور ایک آدمی اہل جنت کے سے عمل کرتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس کا نوشتہ الٰہی آگے بڑھتا ہے اور وہ دوزخیوں جیسے عمل کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں چلا جاتا ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح بخاری جلد 3 حدیث نمبر 1505 مکررات 12 ریکارڈ 12/3 ریکاڈ نمبر 1131505
ابوالولید، ہشام بن عبدالمالک، شعبہ، سلیمان اعمش وہب عبد اللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ نے جو صادق ومصدوق ہیں فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک شخص اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع رہتا ہے پھر یہ چالیس دن میں بستہ خون کی شکل میں ہوجاتا ہے، پھر چالیس دن میں گوشت کا لوتھڑا ہوجاتا ہے، پھر اللہ تعالی فرشتہ کو بھیجتا ہے کہ اور چار چیزوں یعنی رزق، موت، بدبخت یا نیک بخت ہونے کے متعلق لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے بخدا تم میں ایک یا ﴿فرمایا﴾ آدمی دوزخیوں کا کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان ایک ہاتھ یا گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے اس پر کتاب ﴿نوشتہ تقدیر﴾ غالب آتی ہے پس وہ جنتیوں کے عمل کرتا رہتا ہے اور اس میں داخل ہوجاتا ہے اور ایک شخص جنتیوں کے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک یا دو گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے، اس پر کتاب غالب آجاتی ہے پس وہ دوزخیوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں داخل ہوجاتا ہے، آدم نے الاذراع یعنی صرف ایک گز کا لفظ نقل کیا ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح بخاری جلد 3 حدیث نمبر 2301 مکررات 12 ریکارڈ 12/4 ریکاڈ نمبر 1132301
آدم، شعبہ، اعمش، زید بن وہب،حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو صادق و مصدوق ہیں، فرمایا کہ تم میں ہر ایک کا نطفہ اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن اور چالیس رات جمع رہتا ہے پھر اسی طرح خون بستہ ہو جاتا ہے پھر اسی طرح خون کا لوتھڑا ہو جاتا ہے، پھر اس کے پاس فرشتہ بھیجا جاتا ہے جس کو چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے چناچہ وہ اس کی روزی، اس کی عمر، اس کا عمل اور اس کا بد بخت یا نیک بخت ہونا لکھتا ہے، پھر اس میں روح پھونکتا ہے، پس تم میں سے ایک جنتیوں کے سے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے درمیان اور جنت کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے، اس پر تقدیر کا لکھا غالب آتا ہے، چناچہ وہ دوزخیوں کے سے عمل کرتا ہے اور دوزخ میں داخل ہوتا ہے، اور تم میں سے ایک شخص دوزخیوں کے عمل کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے، تو نوشۃ تقدیر غالب آتا ہے وہ جنتیوں کے عمل کرتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 3 حدیث نمبر 2226 مکررات 12 ریکارڈ 12/5 ریکاڈ نمبر 1232226
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ وکیع، محمد بن عبد اللہ بن نمیر، ہمدانی ابومعاویہ وکیع، اعمش، زید بن وہب، حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ صادق و مصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ہر ایک کا نطفہ اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن جمع رہتا ہے پھر اسی میں جما ہوا خون اتنی مدت رہتا ہے پھر فرشتہ بھیجا جاتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے اور اسے چار کلمات لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے اس کا رزق، عمر، عمل اور شقی یا سعید ہونا اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں بے شک تم میں سے کوئی اہل جنت کے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس پر تقدیر کا لکھا ہوا غالب آجاتا ہے اور وہ اہل جہنم کا سا عمل کر لیتا ہے اور جہنم میں داخل ہو جاتا ہے اور تم میں سے کوئی اہل جہنم جیسے اعمال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس پر تقدیر کا لکھا ہوا غالب آجاتا ہے اور وہ اہل جنت والا عمل کر لیتا ہے اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 3 حدیث نمبر 2227 مکررات 12 ریکارڈ 12/6 ریکاڈ نمبر 1232227
عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، جریر بن عبدالحمید اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، ابوسعید اشج وکیع، عبید اللہ بن معاذ ابی شعبہ بن حجاج اعمش، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے فرق یہ ہے کہ وکیع کی روایت میں ہے تم میں سے ہر ایک کی تخلیق اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس راتیں ہوتی ہے شعبہ کی روایت میں چالیس دن یا چالیس رات ہے جریر اور عیسیٰ کی روایت میں چالیس دن مذکور ہیں۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 3 حدیث نمبر 2229 مکررات 12 ریکارڈ 12/7 ریکاڈ نمبر 1232229
ابوطاہر احمد بن عمرو بن سرح ابن وہب، عمرو بن حارث، ابی زبیر مکی عامر بن واثلہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رایت ہے کہ بد بخت وہی ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں ہی بد بخت ہو اور نیک بخت وہ ہے جو دوسروں سے نصحیت حاصل کرے پس اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک آدمی آیا جسے حذیفہ بن اسید غفاری کہا جاتا تھا اور عامر بن واثلہ سے حضرت ابن مسعود کا یہ قول روایت کیا تو عامر نے کہا آدمی بغیر عمل کے بد بخت کیسے ہو سکتا ہے تو اس سے حذیفہ نے فرمایا کیا تو اس بات سے تعجب کرتا ہے؟ میں نے رسول اللہ سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نطفہ پر بیالیس راتیں گزر جاتی ہیں تو اللہ اس کی طرف فرشتہ بھیجتے ہیں جو اس کی صورت بناتا ہے اور اس کے کان آنکھیں اور جلد گوشت اور ہڈیاں بناتا ہے پھر عرض کرتا ہے اے رب یہ مذکر ہے یا مؤنث پس تیرا رب جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے فرشتہ پھر عرض کرتا ہے اے رب اس کی عمر تو تیرا رب جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے اور فرشتہ لکھ دیتا ہے وہ پھر عرض کرتا ہے اے رب اس کا رزق تو تیرا رب جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے پھر فرشتہ وہ کتاب اپنے ہاتھ میں لے کر نکل جاتا ہے اور وہ نہ کوئی زیادتی کرتا ہے اور نہ کمی اس میں جو اسے حکم دیا جاتا ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب صحیح مسلم جلد 3 حدیث نمبر 2230 مکررات 12 ریکارڈ 12/8 ریکاڈ نمبر 1232230
احمد بن عثمان نوفلی ابوعاصم، ابن جریج، ابوزبیر، ابوطفیل عبد اللہ بن مسعود اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب سنن ابوداؤد جلد 3 حدیث نمبر 1282 مکررات 12 ریکارڈ 12/9 ریکاڈ نمبر 1331282
حفص بن عمر نمری، محمد بن کثیر، سفیان معنی، سفیان، اعمش، زید بن وھب، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے بیان کیا کہ آپ صادق ومصدوق ہیں کہ تم میں سے کسی پیدا ہونے والے کانطفہ اپنی ماں کی پیٹ میں چالیس روز تک جمع کیا جاتا ہے پھر وہ اسی طرح گندے خون کا ایک لوتھڑا ہو جاتا ہے پھر اسی طرح (چالیس روز میں) گوشت کا ایک لوتھڑا ہو جاتا ہے پھر اللہ تعالی کے پاس ایک فرشتہ کو بھیجتے ہیں تو اسے چار باتوں کا حکم کیا جاتا ہے تو اس کے رزق کو اس کی موت کے وقت اور اس کے دنیا میں اعمال کو لکھتا ہے پھر لکھتا ہے کہ آیا وہ شقی ہے۔ یا سعات مند پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے بیشک تم میں سے کوئی اہل جنت والے اعمال کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ برابر فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی کتاب کا لکھا ہوا اس پر چل جاتا ہے پھر وہ جہنمیوں کے اعمال کرنے لگ جاتا ہے یہاں تک کہ اس میں داخل ہو جاتا ہے اور بیشک تم میں سے کوئی کام تو اہل دوزخ کے کر رہا ہوتا ہے حتی کہ اس کے درمیان اور دوزخ کے درمیان ایک ہاتھ برابر فاصلہ رہ جاتا ہے تو پھر قلم کا لکھا اس پر سبقت کرتا ہے اور وہ اہل جنت کے اعمال کرنے لگ جاتا ہے پس اس میں داخل ہو جاتا ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب جامع ترمذی جلد 2 حدیث نمبر 5 مکررات 12 ریکارڈ 12/10 ریکاڈ نمبر 1520005
ہناد، ابومعاویہ، اعمش، زید بن وہب، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صادق مصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ تم میں ہر ایک ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفے کی حالت میں رہتا ہے پھر چالیس دن کے بعد گاڑھا خون بن جاتا ہے پھر چالیس دن میں گوشت کا لوتھڑا بنتا ہے پھر اللہ تعالی اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے اور اسے چار چیزیں لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے پس اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں تم میں سے کوئی اہل جنت کے عمل کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان بالشت بھر فاصلہ رہ جاتا ہے پھر تقدیر الہی اس کی طرف سبقت کرتی ہے تو اس کا خاتمہ دوزخیوں کے اعمال پر ہوتا ہے اور وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے اور ایک آدمی جہنمیوں کے اعمال کرتا ہے یہاں تک تقدیر الہی اس کی طرف دوڑتی ہے اور اس کا خاتمہ جنتیوں کے اعمال پر ہوتا ہے پس وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب جامع ترمذی جلد 2 حدیث نمبر 6 مکررات 12 ریکارڈ 12/11 ریکاڈ نمبر 1520006
محمد بن بشار، یحیی بن سعید، اعمش، زید بن وہب، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی کرام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث روایت کی اور اسی کی مثل ذکر کیا اس باب میں حضرت ابوہریرہ اور حضرت انس رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مروی ہیں احمد بن حسن فرماتے ہیں میں نے امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری آنکھوں نے یحیی بن سعید قطان کی مثل کوئی دوسرا نہیں دیکھا یہ حدیث حسن صحیح ہے شعبہ اور ثوری نے اعمش سے اس کی مثل روایت کی محمد بن علاء نے وکیع کے واسطے سے انہوں نے بواسطہ اعمش حضرت زید سے اس کی مثل حدیث روایت کی۔
_____________________________________________________________________________________
کتاب سنن ابن ماجہ جلد 1 حدیث نمبر 76 مکررات 12 ریکارڈ 12/12 ریکاڈ نمبر 1610076
علی بن محمد، وکیع و محمد بن فضیل وابومعاویہ، علی بن میمون رقی، ابومعاویہ و محمد بن عبید، اعمش، زید بن وہب، عبد اللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے بیان فرمایا اور وہ سچے اور تصدیق کئے گئے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک کا مادہ تخلیق ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک رکھا جاتا ہے پھر جمے ہوئے خون کی شکل اختیار کرتا ہے اسی مدت تک پھر گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے اسی مدت تک پھر اللہ اس کی طرف ایک فرشتے کو بھیجتے ہیں جس کو چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا عمل ، عمر ، رزق، اور بدبخت ہونا یا خوش بخت ہونا لکھ دو۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کوئی اہل جنت کے سے عمل کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو لکھا ہوا اس پر سبقت کر جاتا ہے، اور وہ اہل جہنم کا سا عمل کرتا ہے اور اس میں داخل ہو جاتا ہے اور کوئی اہل جہنم کے سے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسکے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تولکھا ہوا اس پر سبقت کر جاتا ہے اور وہ اہل جنت کا سا عمل کرلیتا ہے جنت میں داخل ہو جاتا ہے ۔
_____________________________________________________________________________________

 
Leave a comment

Posted by on June 18, 2009 in Ahadiths

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: